2 اپریل 2006 کو ڈاکٹر محمد اقبال کے ’’یومِ وفات‘‘ کے موقع پر پاکستان ٹیلی ویزن (لاہور) کے اسٹوڈیو میں ایک پینل ڈسکشن کا اہتمام کیا گیا- اِس میں ملک کے نامور اہلِ علم ودانش شریک ہوئے- اِس پروگرام کا موضوع اقبال کے خطبات:
The Reconstruction of Religious Thought in Islam
پر اظہار خیال تھا- دوسرے اہلِ علم کے علاوہ، ڈاکٹر جاوید اقبال نےمرکزی مقرر کی حیثیت سے اس پروگرام میں شرکت کی- ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا کہ: ’’سب سے بڑی بات جو ہم نے اچیو (achieve) کی ہے، وہ پاکستان کا کری ایشن (creation) ہے‘‘- انھوں نے مزید کہا کہ ہم جوہری طاقت (neuclearpower) ہیں- یہ بھی بڑی اچیومینٹ (achievement) ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے ٹھیک کیا ہے‘‘- (شش ماہی مجلہ ’’اقبال ریویو‘‘، صفحہ: 85 ، اپریل 2013، اقبال اکیڈمی، حیدر آباد، انڈیا)
1947 سے پہلے جب پاکستان کی تحریک چل رہی تھی، ہر طرف مسلمان یہ نعرے لگا رہے تھے کہ — پاکستان کا مطلب کیا، لا إلہ إلا اللہ- اِس نعرے کا مطلب بظاہر یہ تھا کہ پاکستان کی طاقت اسلام کا نظریہ ہے، یعنی اسلام کی پرامن آیڈیالوجی (peaceful ideology)، مگر 60 سال سے زیادہ مدت گزرنے کے بعد پاکستان کے دانش ور یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی طاقت ایٹم بم ہے-اِس ذہن کی مزید توسیع یہ ہے کہ پاکستانی سماج میں گن کلچر اور بم کلچر کو زبردست فروغ حاصل ہوا جو آخر کار خود کش بم باری تک پہنچا- آج کی دنیا کی نظر میں پاکستان کی تصویر ایک تشدد پسند ملک کی تصویر ہے، نہ کہ پرامن اسلام پسندکی تصویر- ایک عالمی سروے کے مطابق، سنگاپور دنیا کا سب سے زیادہ پر امن ملک ہے اور پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ پر تشدد ملک— نظریۂ پاکستان کا یہ برعکس انجام شاید جدید تاریخ کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔