Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Al-Risala January 2014
Al-Risala January 2014

سورہ التین کا پیغام

Urdu · 11 min read

قرآن کی سورہ التین میں اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کو بتایا گیا ہے- اِ س سورہ کا متن اور ترجمہ یہ ہے: ۝وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ ۝ وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ ۝ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ ۝ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۝ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ ۝ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ۝ فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ ۝ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ (95:1-8) یعنی قسم ہے تین کی اور زیتون کی اور طورِسینا کی اور اس امن والے شہر کی۔ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ لیکن جولوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔تو اب کیا ہے جس سے تم بدلہ ملنے کو جھٹلاتے ہو۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں۔قرآن کے اِس بیان کے مطابق، انسان کو بہترین شخصیت کے ساتھ پیدا کیا گیا، لیکن اس کے بعد انسان کو ایک ایسی دنیا میں ڈال دیا گیاجو انسان جیسی مخلوق کے لیے اسفل سافلین کی حیثیت رکھتی تھی:

unverifiedAttribution could not be verified automatically

We have created man in the best of mould, then We cast him down as the lowest of the low.

Qur'anQuotes the Qur'an

اسفل سافلین میں ڈالنے سے کیا مراد ہے-اِس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے- قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آدم اور اُن کی بیوی حوا کو پیدا کرنے کے بعد پہلے جنت میں رکھا گیا - اس کے بعد اُن کو (اور ان کی نسلوں کو)موجودہ دنیا (planet earth)میں منتقل کردیاگیا - اِس سلسلے میں آیت کے الفاظ یہ ہیں: قُلْنَا اہْبِطُوْا مِنْہَا جَمِیْعًا (2:38) یعنی ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے اترو (زمین پر)-قرآن کی اِن دونوں آیتوں میں ایک گہری مشابہت ہے- ’’رددنا‘‘ اور ’’اہبطوا‘‘ دونوں قریب المعنی الفاظ ہیں- اِ س لفظی مشابہت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسفل سافلین سے مراد یہی موجودہ زمین ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو جنتی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ، پھر اس کو ایک مخصوص منصوبے کے تحت سیارۂ زمین کے اوپر بسا دیاگیا جو کہ تخلیق کے اعتبار سے، جنتی انسان کا ہیبی ٹیٹ (habitat) نہ تھا- اسفل سافلین سے مراد کوئی پراسرار چیز نہیں، اس سے مرادموجودہ زمین ہے جو انسان جیسی مخلوق کا مسکن (habitat)نہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہیبی ٹیٹ کی اہمیت

ہیبی ٹیٹ کیا ہے- ہیبی ٹیٹ ایک ارضیاتی اصطلاح ہے- اِس سے مراد وہ جغرافی مقام ہے جو کسی حیوان یا کسی پودے کے لیے فطری طورپر موزوں ہو:

Habitat: The natural abode of an animal or plant.

گویا ہیبی ٹیٹ زمین کا وہ مخصوص علاقہ ہے جو کسی جان دار مخلوق کے لیے موزوں جاے قیام کی حیثیت رکھتا ہو، جہاں وہ حالات موجودہوں جس میں کوئی جان دار مخلوق بھر پور طور پر نشوونما پاسکے-

اخروی حقیقتوں کو قابلِ فہم بنانے کے لیے خالق نے دنیا کی زندگی میں حیوانات کے ہیبی ٹیٹ کا ظاہرہ (phenomenon) قائم کیا ہے- حیوانات اپنے ہیبی ٹیٹ میں پرسکون طورپر رہتے ہیں- ہیبی ٹیٹ کے باہر ان کو سکون نہیں ملتا- اس کی ایک مثال مچھلی ہے- مچھلی ایک جان دار مخلوق ہے اور اس کا فطری ہیبی ٹیٹ پانی ہے- مچھلی پانی کے اندر پرسکون طورپر رہتی ہے، لیکن اگر مچھلی کو پانی کے باہر رکھ دیا جائے، مثلاً کسی محل میں، کسی گارڈن میں، کسی صوفہ سیٹ پر، کسی کار یا ہوائی جہاز میں تو ہر جگہ وہ تڑپتی رہے گی- لیکن جیسے ہی آپ اس کو دریا یا سمندر میں ڈالیں، وہ فوراً پرسکون ہو کر اس میں تیرنے لگے گی- اِس کا سبب یہ ہے کہ مچھلی اپنی ساخت کے اعتبار سے ہوا سے آکسیجن نہیں لے سکتی- مچھلی کے لیے آکسیجن حاصل کرنے کا ذریعہ صرف تحلیل شدہ آکسیجن (dissolved oxygen) ہے جو پانی کے اندر فطری طورپر موجود ہوتا ہے-

موجودہ دنیا انسان کا ہیبی ٹیٹ نہیں- انسان کے خالق نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا ہے، جب کہ موجودہ دنیا اِس کے مطابق نہیں- انسان اور اس کے رہائشی سیارہ کے درمیان اِسی تبایُن (disparity)کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمین انسان کا فطری ہیبی ٹیٹ نہیں- انسان کو اِس دنیا میں اُس مچھلی کی طرح رہنا پڑتا ہے جو پانی کے باہر کسی غیر آبی جگہ پر ہو-اگرچہ اِس دنیا میںپھل اور میوے ہیں، اگر چہ اِس دنیا میں سرسبز پہاڑ ہیں، اگر چہ اِس دنیا میں متمدن آبادیاں ہیں، پھر بھی انسان کو اِس دنیا میں ذہنی سکون حاصل نہیں- انسان اپنی زندگی کے اِس تباین پر غور کرے تو وہ ایک عظیم حقیقت کو دریافت کرے گا، وہ یہ کہ موجودہ دنیا اس کا ہیبی ٹیٹ نہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسفل سافلین کیا ہے

اِس نکتے کو ذہن میں رکھ کر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اسفل سافلین سے مراد کوئی پراسرار چیز نہیں ہے- اس سے مراد یہی موجودہ زمین ہے- موجودہ زمین کا اسفل سافلین ہونا خود زمین کی نسبت سے نہیں، بلکہ وہ انسان کی نسبت سے ہے- انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے، معیار پسند ہے- موجودہ زمین چوں کہ ہر اعتبار سے آئڈیل سے کم (less than ideal) ہے، اِس لیے عملاًوہ انسان جیسی مخلوق کے لیے اسفل سافلین بن جاتی ہے-اِس نکتے کی وضاحت کے بعد سورہ التین کا پورا مفہوم واضح ہوجاتاہے- اِس سورہ کے ابتدائی الفاظ علامتی الفاظ ہیں- اِس میں انجیر اور زیتون کے الفاظ سے زمین کی روئیدگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس کی بنا پر یہاں پھل اور اناج جیسی چیزیں پیدا ہوتی ہیں- جبلِ طورسے مراد زمین کے لیے پہاڑوں کی وہ اہمیت ہے جس کا ذکر قرآن کے مختلف مقامات پر کیاگیا ہے- بلدِ امین سے مراد موجودہ زمین کی وہ صلاحیت ہے جس کی بنا پر یہاں شہر آباد ہوتے ہیں اور انسانی تہذیب ظہور میں آتی ہے-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اصل یہ ہے کہ موجودہ زمین ایک استثنائی کرہ ہے- یہاں جو حالات ہیں، وہ کائنات کے کسی اور کرہ پر موجودنہیں- مگر یہاں ایک فرق ہے، وہ یہ کہ انسان اپنی ذات میں ایک معیار پسند مخلوق ہے، جب کہ موجودہ زمین دار الامتحان کے طورپر بنائی گئی ہے، اِس لیے وہ انسانی معیار کے مطابق نہیں- یہی وجہ ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے عملاً دار الکبد بن جاتی ہے، یعنی ایک ایسی دنیا جہاں انسان کو چین اور سکون حاصل نہیں-یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان ایک عدم مطابقت (disparity) پائی جاتی ہے- موجودہ زمین پر انسان کی حیثیت ایک ایسے طالب کی ہے جس کا مطلوب اس کو یہاں حاصل نہیں -یہ صورت حال بتاتی ہے کہ انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان ایک عدم مطابقت (disparity) پائی جاتی ہے- موجودہ زمین پر انسان کی حیثیت ایک ایسے طالب کی ہے جس کا مطلوب اس کو یہاں حاصل نہیں- یہی وجہ ہے کہ اِس زمین پر پیدا ہونے والے تمام عورت اور مرد بے سکونی کی زندگی گزارتے ہیں اور اِسی حال میں مر جاتے ہیں- یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیاہے: اللہم لا عیش إلا عیش الآخرة ( صحیح مسلم، رقم الحدیث:1805 ) یعنی انسان کو اس کی مطلوب زندگی تو صرف آخرت میں مل سکتی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس سورہ میں اسفل سافلین کا لفظ خارجی حالات کی نسبت سے نہیں آیا ہے، بلکہ وہ انسان کی اپنی داخلی نفسیات کی نسبت سے آیا ہے، یعنی ایک ایسی مخلوق جو اپنی تخلیق کے اعتبار سے، احسنِ تقویم ہے، اس کے لیے یہ دنیا عملاً اسفل سافلین کے ہم معنی بن جاتی ہے- انسان کے لیے یہاں رہنا ایسا ہی ہے جیسے مچھلی کا پانی کے باہر رہنا-

انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان یہ عدم مطابقت ایک سراغ (clue)ہے- وہ عدم مطابقت یہ ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے، جس ہیبی ٹیٹ کا طالب ہے، زمین اس کے لیے وہ ہیبی ٹیٹ نہیں- یہ عدم مطابقت انسانی زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر غور کرکے انسان ایک عظیم حقیقت کو دریافت کرسکتا ہے، یعنی یہ حقیقت کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور اپنے آپ کو کامیاب بنانے کے لیے اس کو کیا کرنا چاہئے-

سورہ کے اگلے الفاظ اِسی بات کا جواب ہیں- سورہ کے اگلے الفاظ یہ ہیں: اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ -یعنی جو لوگ اللہ کے تخلیقی منصوبے کو دریافت کریں اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تشکیل کر یں تو موت کے بعد وہ ایک ایسی دنیا (جنت) میں داخل کیے جائیں گے، جو اُن کا مطلوب ہیبی ٹیٹ ہوگا اور اِس بنا پر وہاں عدم مطابقت کا مسئلہ باقی نہ رہے گا- اِس دنیا میں اُن کو اپنی مطلوب زندگی مل جائے گی جس کو قرآن میں غیر ممنون اجر (unending award) کہاگیا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اجر غیر ممنون

قرآن کی اِس آیت میں ’اجرِ غیر ممنون‘ کا لفظ ایک ذو معنی لفظ ہے، یعنی بلاغت کے اصول کے مطابق، اِس لفظ میں مذکور معنی کے ساتھ ایک غیر مذکور معنی بھی پوشیدہ ہے، یعنی اجر غیر ممنون کے ساتھ اجرِ ممنون کا تصور، یا غیر منقطع اجر کے ساتھ منقطع اجر کا تصور-

اِس آیت میں آخرت کےاجر کو غیر ممنون (غیر منقطع) اجر بتایا گیا ہے- یہ لفظ دنیا کے اجر کے مقابلے میں آیا ہے، کیوں کہ دنیا کااجر ممنون (منقطع) اجر ہے اور آخرت کااجر، غیر ممنون (غیر منقطع) اجر ہے- دوسرے لفظوں میں یہ کہ دنیا کا اجر عارضی اجر ہے اور آخرت کا اجر ابدی اجر-یہ فرق بے حد اہم ہے- حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے اجر کا ممنون (منقطع) اجر ہونا ہی وہ چیز ہے جو دنیا کو اسفل سافلین بنا دیتا ہے، کیوں کہ انسان کا معیار پسند ذہن معیار سے کم پر راضی نہیں ہوتا- انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے صرف معیار پر مطمئن ہوسکتاہے، معیار سے کم پر مطمئن ہونا بہ اعتبار مزاج اس کے لیے ممکن نہیں- انسان کا یہی مزاج ہے جو موجودہ دنیا کو اس کے لیے دار الکبد بنا دیتاہے- موجودہ دنیا مطلق معنوں میں دار الکبد نہیں ہے- انسان کے معیار پسندانہ ذہن کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا اس کو ایک ایسی جگہ محسوس ہونے لگتی ہے جو گویا کہ اس کے لیے دار الکبد ہو- اللہ نے دنیا کو دار الکبد کے طورپر پیدا نہیں کیا ہے، یہ انسان کا اپنا مزاج ہے جس کی بنا پر دنیا اس کو دار الکبد نظر آتی ہے- یہ معاملہ انسان کی نسبت سے ہے، نہ کہ تخلیق کی نسبت سے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سورہ کے آخر میں فرمایا: اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ -اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں جو عدم مطابقت ہے یا طالب کو اس کا مطلوب حاصل نہیں، یہ خالق کی حکیمانہ شان کے خلاف ہے- لازماً ایسا ہونا چاہیے کہ خالق کی حکیمانہ شان کا ظہور ہو، اِس عدم مطابقت کا خاتمہ ہو اور طالب کو اس کا مطلوب مل جائے- آخرت اِسی شانِ خداوندی کے ظہور کا دن ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خلاصۂ کلام

سورہ التین میں جو بات ’رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ‘ کے الفاظ میں کہی گئی ہے، وہی بات دوسری سورتوں میں دوسرے الفاظ میں کہی گئی ہے- مثلاً لَقَدْ خَلَقْنَا الْانْسَانَ فِیْٓ کَبِد اور إنَّ الإنْسَانَ لَفِی خُسْرٍ وغیرہ- قرآن کے الفاظ پوری انسانی تاریخ پر منطبق ہوتے ہیں- اول دن سے اب تک جو عورت یا مرد اس کرۂ ارض پر پیداہوئے، اُن سب کے ساتھ یہی واقعہ پیش آ ٓیا کہ آخر کار وہ محدود مدت کے بعد مر گئے اور اُن کی بنائی ہوئی دنیا بالکل اجڑ گئی- اِس معاملے میں کسی بھی انسان کا کوئی استثنا نہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاریخ کا یہ تجربہ ایک سوالیہ نشان ہے، بلکہ سب سے بڑا سوالیہ نشان، وہ یہ کہ انسان احسنِ تقویم کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے- وہ تمام مخلوقات میں افضل مخلوق اور مکرم مخلوق ہے- انسان واحد مخلوق ہے جو اپنی ساخت کے اعتبار سے، معیار پسند (idealist)اور کمال پسند (perfectionist) واقع ہوا ہے-یہ انسانی شخصیت کا ایک پہلو ہے- اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان جس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ اس کا ہیبی ٹیٹ نہیں- ایک سائنس داں کے الفاظ میں، بظاہر ایسا محسوس ہوتاہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اس کے لیے نہیں بنائی گئی تھی:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

It appears that man has strayed into a world that was not made for him.

انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان یہ عدم مطابقت ہر عورت اور مرد کے لیے دعوتِ فکر کی حیثیت رکھتی ہے- اگر آدمی حقیقی معنوں میں حق کا متلاشی ہو تو انسانی زندگی کا یہ پہلو اس کے لیے ایک ایسا سراغ (clue) بن جائے گا جس پر غور کرتے ہوئے وہ زندگی کی اصل حقیقت کو دریافت کرلے- اِس دریافت کے بعد اس کو معلوم ہوگا کہ موجودہ دنیا اس کے لیے صرف ایک عارضی قیام گاہ ہے، وہ اس کا ہیبی ٹیٹ نہیں- انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اِس کا مستحق بنائے کہ موت کے بعد اس کو ابدی جنت میں داخلہ ملے جو کہ انسان کا اصل ہیبی ٹیٹ ہے-(5ستمبر 2013)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content