ڈاکٹر سنجے رائے سمستی پور، بہار میں پیدا ہوئے- 21 اگست 2013 کو ایک سڑک حادثے میں ان کا انتقال ہوگیا- انتقال کے وقت ان کی عمر 40 سال تھی- انھوں نے 1996 میں اسلام قبول کرلیا- وہ ایک پابند ِ صوم وصلاة نوجوان تھے- انھوں نے ایک بار اپنی ڈائری میں لکھا تھا کہ: ’’اللہ سے بات کرنا چاہو تو قرآن پڑھا کرو، اور اللہ سے ملاقات کرنا چاہو تو تہجد پڑھا کرو‘‘-
(ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، اکتوبر 2013، صفحہ: 7)
یہ کوئی خوش عقیدگی (wishful thinking)کی بات نہیںہے، بلکہ وہ ایک حقیقت ہے- یہ ایک واقعہ ہے کہ قرآن کو پڑھنا گویا اللہ سے ہم کلام ہونا ہے اور عبادت میں مشغول ہونا وہ لمحہ ہے جب کہ ایک بندہ اپنے رب سے ملاقات کا تجربہ کرتا ہے- لیکن قرآن اور نماز کا یہ فائدہ اس کے ظاہری فارم میں نہیں ہے، بلکہ وہ اس کی اسپرٹ میں ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ آپ قرآن کے الفاظ کو اپنی زبان سے دہرائیں تو خود بخود آپ کو اللہ سے ہم کلامی کا تجربہ ہونے لگے، یا آپ نماز کے فارم کو دہرائیں تو نماز کی صورت کا دہرانا بجائے خود اللہ سے ملاقات کا ذریعہ بن جائے- یہ دونوں فائدے کسی کو بہ اعتبار اسپرٹ ملتے ہیں، نہ کہ بہ اعتبار فارم-
اصل یہ ہے کہ جب ایک انسان حقیقت کی تلاش میں سرگرداں ہوتا ہے، پھر وہ اللہ کی توفیق سے سچائی کو پالیتا ہے، پھر اس کو معرفت کے درجے میں ایمان حاصل ہوجاتا ہے، اللہ کی یاد اس کے شعوری عمل (thought process) میں شامل ہوجاتی ہے، وہ صبح وشام خدائی حقیقتوں کی دریافت کرتا رہتا ہے، اس کا کیس ایک ربانی انسان کا کیس بن جاتا ہے، قرآن کی تلاوت یانماز سے پہلے وہ ایک تیار ذہن (prepared mind) بن چکا ہوتا ہے- ایسا انسان جب تدبر کے ساتھ قرآن کو پڑھتا ہے یا وہ نماز ادا کرتا ہے تو اس کو بلا شبہہ ان اعلی کیفیات کا تجربہ ہوتا ہے جیسے کہ وہ اللہ سے ہم کلام ہے، جیسے کہ وہ اللہ سے ملاقات کررہا ہے(تعبد اللہ کأنک تراہ)-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔