مولانا شاہ حکیم اختر (2013-1924) ایک صوفی عالم تھے- وہ مولانا عبد الغنی پھول پوری کے خلیفہ تھے- وہ اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ: ’’بارہ سال کی عمر تھی- جنگل کی ایک مسجد میں جاکر نماز پڑھتا اور آسمان کی طرف دیکھ کر مولانا روم کا یہ شعر پڑھتا جاتا اور روتا جاتا:
سینہ خواہم شرح شرح از فراق تا بگویم شرح از دردِ اشتیاق
ترجمہ: اے اللہ، میں آپ کی جدائی کے غم میں اپنا سینہ ٹکڑے ٹکڑے کردینا چاہتا ہوں، تاکہ میں آپ کی محبت کے دردِ اشتیاق کی شرح بیان کرسکوں‘‘- (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، جولائی- اگست 2013، صفحہ: 7) - اللہ سے محبت بلا شبہہ مطلوب ہے، لیکن یہ محبت ذاتی نوعیت کے عشق وعاشقی کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اِس معنی میں ہے کہ انسان اللہ کے رحیم وکریم ہونے کو دریافت کرے اور اس کے نتیجے میں وہ حمد اور شکر کی اعلی کیفیات سے سرشار ہوجائے، وہ معرفتِ خداوندی میں جینے لگے، اس کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کا عمل (process) شروع ہوجائے-
جب ایسا ہوگا تو آدمی کو اس کا ایک فائدہ یہ ملے گا کہ اس کے اندر وہ ربانی شخصیت بنے گی جو جنت میں داخلے کی مستحق قرار پائےاور وہ اللہ کی قربت کا تجربہ کرے- اس کے صبح وشام فرشتوں کی صحبت میں بسر ہونے لگیں گے، اس کے اندر حکمت کا ’اِنبات‘ ہونے لگے گا، جیساکہ حدیث میں آیا ہے (ما زہدعبد فی الدنیا إلا أنبت اللہ فی قلبہ الحکمة)-
اِس کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر شدت کے ساتھ دعوت الی اللہ کا جذبہ پیدا ہوجائے گا- وہ اِس مقصد کے لیے سرگرم ہوجائے گا کہ اللہ کے بندوں کو وہ اللہ کا پیغام پہنچا دے- اس کی اپنی معرفت اُس وقت تک مشتبہ نظر آئے گی، جب تک کہ وہ دوسروں کے لیے بھی اِسی ربانی تجربے کا حریص نہ بن جائے- اس کو اپنی جنت اُس وقت تک مشتبہ دکھائی دے گی، جب تک کہ وہ دوسروں کے لیے جنت کا دروازہ کھولنے میں اپنی ساری طاقت نہ لگا دے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔