← Al-Risala January 2011Al-Risala January 2011
سوال وجواب
Urdu · 10 min read
آپ نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا تھا کہ موجودہ زمانے میں دعوت کی نسبت سے دو بڑے کام ضروری ہیں— جدید سائنسی دریافتوں کا اسلام کے ساتھ تعلق ثابت کرنا، اور عصری اسلوب میں اسلام کا تعارف۔ براہِ کرم، اِن دونوں پہلوؤں کی وضاحت فرمائیں (ابو الحکم محمد دانیال، پٹنہ، بہار)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں دعوتِ اسلام کی نسبت سے دو بڑے کام مطلوب ہیں۔ اِن دونوں کاموں کی انجام دہی کے بغیر موجودہ زمانے میں دین کا اظہار نہیں ہوسکتا۔ وہ دو کام یہ ہیں:
1 - جدید علمی دریافتوں کا اسلام کے ساتھ ریلیونس (relevance) بتانا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے جو نئی علمی حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں، وہ اسلام کی حقانیت کو از سرِ نو مدلّل کرتی ہیں۔ ابتدائی طورپر یہ دریافتیں اسلام سے الگ معلوم ہوتی ہیں، لیکن جب اُن کو اسلامی عقائد سے وابستہ کرکے دیکھا جائے تو وہ اسلام کے حق میں ایک مسلّمہ علمی دلیل بن جاتی ہیں۔ مثال کے طورپر مشہو ر برٹش سائنس داں اسٹفن ہاکنگ(Stephen Hawking) کی دریافت کردہ سنگل اسٹرنگ تھیوری (single-string theory) عقیدۂ توحید کے لیے ایک قطعی سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح ایک اور مثال مشہور جرمن سائنس داں آئن سٹائن (وفات:1955 ) کا نظریۂ اضافیت (Theory of Relativity) ہے۔ نظریہ اضافیت بتاتا ہے کہ انسانی علم کی نسبت سے یہاں کوئی مطلق فریم ورک موجود نہیں:
No absolute frame of reference exists.
یہ سائنسی دریافت اسلام کی نسبت سے بہت اہم ہے۔ یہ دریافت اسلام کے عقیدۂ وحی کے حق میں سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اِس دریافت کے مطابق، انسان علمِ کلّی تک نہیں پہنچ سکتا، جب کہ علمِ کلّی کا حصول انسان کے لیے بے حد ضروری ہے۔ اِس طرح یہ نظریہ یہ ثابت کرتاہے کہ انسان کو علم کلّی تک پہنچنے کے لیے وحی (رسالت) پر اعتماد کرنا لازمی طورپر ضروری ہے۔ اسٹفن ہاکنگ کی دریافت اگر عقیدۂ توحید کے لیے علمی بنیاد فراہم کرتی ہے، تو آئن اسٹائن کی دریافت عقیدۂ رسالت کے حق میں علمی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا کہ جدید سائنس اسلام کا جدید علمِ کلام (theology) ہے۔
2 - دوسرا اہم کام یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو اِس طرح بیان کیا جائے کہ وہ جدید دور سے ریلیونٹ (relevant) معلوم ہونے لگے۔ بظاہر اسلام کی تعلیمات الگ ہیں اور جدید دور کے تقاضے الگ۔ لیکن جب اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب (modern idiom) میں بیان کردیا جائے تو وہ پوری طرح جدید دور سے ریلیونٹ دکھائی دینے لگے گی۔ہمارے ادارے سے چھپا ہوا پورا لٹریچر اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اگر اس کو مختلف زبانوں میں چھاپ کر دنیا میں پھیلا دیا جائے تو ان شاء اللہ یہی لٹریچر وقت کی اِس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوجائے گا۔
بخاری کی ایک حدیث ہے کہ ’’دوزخ سال میں دو بار سانس لیتی ہے۔ ایک بار وہ اندرسانس لیتی ہے، یعنی کھینچتی ہے اور ایک بار وہ اس کو باہر چھوڑتی ہے۔ جب وہ سانس اندر لیتی ہے تو زمین پر سردی پڑتی ہے اور جب وہ باہر چھوڑتی ہے تو زمین پر گرمی پڑتی ہے‘‘۔ سائنسی تحقیقات کی روشنی میں یہ حدیث سمجھ میں نہیں آتی۔ امسال (2009) سردی پڑی ہی نہیں۔ ایسی حالت میں یہ حدیث ایک معمّہ سے کم نظر نہیںآتی۔ براہِ کرم، اس حدیث کے بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔ (شعیب اعظم، بھوپال)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صحیح البخاری کی یہ روایت تمثیل کی زبان میں ہے۔ یہ روایت نصیحت کے لیے ہے، نہ کہ بیانِ واقعہ کے لیے۔ اصل یہ ہے کہ جہنم میں سخت سردی بھی ہے اور سخت گرمی بھی ۔ مذکورہ روایت کا مطلب یہ ہے کہ جب تم کو سخت سردی کا تجربہ ہوتو تم یاد کرو کہ جب دنیا کی سردی اتنی تکلیف دہ ہے تو جہنم کی سردی کتنی زیادہ تکلیف دہ ہوگی۔ اِسی طرح جب تم کو دنیا کی گرمی کا تجربہ ہو تو تم سوچو کہ جب دنیا کی گرمی اتنی تکلیف دہ ہے تو جہنم کی گرمی کتنی زیادہ تکلیف دہ ہوگی۔ اِس قسم کی اور بھی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ وہ سب بطور تمثیل ہیں، نہ کہ بطور بیانِ واقعہ۔
آپ نے ’’تذکیر القرآن‘‘ (26: 204-212) میں تشریح کے تحت درج کیا ہے کہ: ’’پیغمبر کی سطح پر جب دعوت ظاہر ہوتی ہے تو وہ اپنی آخری کامل صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کا انکار کرنے والی قوم پر خدا کا عذاب آنا لازمی ہوجاتا ہے‘‘ (صفحہ 1048 )۔ آپ نے اپنی تشریح میں کئی جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ پیغمبروں کے ذریعہ اتمامِ حجت کے بعد مخاطب قوم جینے کا حق کھو دیتی ہے۔ اقوام کی تاریخ آپ کی تشریح کی شہادت دیتی ہے، مگر یہود کا معاملہ مستثنیٰ نظر آتا ہے۔ حالاں کہ قوم یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا، مگر پھر بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے جینے کا حق نہیں چھینا۔ اس کا کیا جواز ہے (رستم علی، پٹنہ،بہار)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
پیغمبر کے ذریعے اتمامِ حجت کے بعد مدعو قوم پر ضرور عذاب آتا ہے، لیکن اس کی صورت ہمیشہ یکساں نہیں ہوتی۔ حضرت مسیح کے ذریعے اتمامِ حجت کے بعد یہود بھی اِس قانونِ الٰہی کی گرفت میں آئے، لیکن اُن کے ساتھ عذابِ مستأصل کا معاملہ نہیں کیا گیا، بلکہ وہ معاملہ کیاگیا جس کو قرآن میںاِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ضُربت علیہم الذلّۃ والمسکنۃ (2: 61) ۔ اِس آیت میں ذلت اور مسکنت سے مراد مادّی ذلت اور مسکنت نہیں ہے، بلکہ نفسیاتی ذلت اور مسکنت ہے۔ مزید یہ کہ مسلمان اگر حدیث کی پیش گوئی کے مطابق، یہود کے طریقے کا اتباع کرنے لگیں، تو وہ بھی اِس قانونِ الٰہی کی گرفت میںآجائیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حدیث میں آیا ہے کہ آخری زمانے میں ایک شخص اٹھے گا، جو المہدی ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا المہدی کوئی سیاسی لیڈر ہوںگے، نیزیہ کہ کیا المہدی انوکھی اور پر اسرار شخصیت کے حامل ہوں گے کہ ان کو دیکھتے ہی تمام مسلمان ان کو پہچان کر متفقہ طو ر پر اُن کے ساتھی بن جائیں گے۔ براہِ کرم، اِس کی وضاحت فرمائیں۔ (شاہ عمران حسن، نئی دہلی)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دور آخر میں امتِ محمدی کے اندر ایک شخص اٹھے گا۔ حدیث میں اس کو المہدی کہاگیا ہے۔ ابو داؤد کی ایک روایت میں المہدی کا رول اِن الفاظ میں بتایا گیا ہے: یملأ الأرضَ قسطاً وعداً کما مُلئت جوراً وظلماً (کتاب المہدی،رقم الحدیث: 2485 ) یعنی مہدی زمین کو قسط اور عدل سے بھر دے گا، جیسا کہ اِس سے پہلے وہ جوروظلم سے بھر دی گئی تھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیث میں جو بات کہیں گئی ہے، وہ سیاسی اقتدار کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ نظریاتی توسیع کے معنی میں ہے۔ یہی بات حدیث کے دونوں حصوں کے بارے میں درست ہے، یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ مہدی سے پہلے ساری زمین پر ظلم وجور کا سیاسی اقتدار قائم ہوگا اور مہدی اس کے بجائے ساری زمین پر قسط وعدل کا اقتدار قائم کردے گا۔ اِس کا مطلب صرف یہ ہے کہ مہدی سے پہلے دنیا میں غلط نظریے کی عمومی اشاعت ہوجائے گی۔ مہدی اِس کے بجائے یہ کرے گا کہ وہ دنیا میں صحیح نظریے کی عمومی اشاعت کرنے میں کامیاب ہوگا۔ اِس اعتبار سے، حدیث کی تشریح اِن الفاظ میں کرنا درست ہے: یملأ الأرض قسطاً وعدلاً بکلمۃ الحق کما ملئت جوراً وظلماً بکلمۃ الباطل۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
المہدی کوئی انوکھی چیز نہیں ہوگا، وہ عام مصلحین کی طرح ایک مصلح ہوگا۔ فرق صرف یہ ہوگا کہ عام مصلحین اور مجدد ین عالمی کمیونکیشن (global communication) سے پہلے پیدا ہوئے، جب کہ المہدی کی امتیازی صفت یہ ہوگی کہ وہ عالمی کمیونکیشن کے زمانے میں پیداہوگا۔ اِس بنا پر اس کی دعوتی اور فکری جدوجہد کا دائرہ عالمی بن جائے گا، جب کہ اِس سے پہلے کے مصلحین اور مجددین کا دائرہ صرف محلّی اور مقامی ہوا کرتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ المہدی کا ظہور قانونِ فطرت کے مطابق ہوگا،اور قانونِ فطرت کے مطابق ہی اِس معاملے کو سمجھا جاسکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ ہجرت سے پہلے، نبوت کے دسویں سال، مکہ سے طائف گئے۔ طائف اُس زمانے کا ایک خوش حال شہر تھا۔ اُس وقت وہاں کے تمام لوگ بت پرست تھے آپ نے طائف کے تین سرداروں سے ملاقات کی اور بتایا کہ خدا نے مجھے اپنا رسول بنایا ہے۔ اِس کے بعد اِن سرداروں نے آپ کا مذاق اڑایا اور آپ کی توہین کی۔ ایک سردار نے کہا: أما وجد اللّٰہ أحداً أرسلہ غیرک (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، 2/149 ) یعنی کیا اللہ نے کسی اور کو نہیں پایا کہ وہ اُس کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی اپنے زمانے میں خدا کے تمام پیغمبروں کا حال ہوا ہے۔ ہر ایک کو ان کے معاصرین نے کم سمجھا، اور اُن کا استہزاء (36: 30) کیا۔ اِس معاملے میں کسی بھی پیغمبر کا، حتی کہ پیغمبر اسلام کا بھی کوئی استثناء نہیں ہے۔ لوگ پیغمبروں کو ان کے بعد کے زمانے کے حوالے سے پہچانتے ہیں۔ پیغمبروں کو پہچاننے والا صرف وہ شخص ہے جو اُن کو اُن کے ابتدائی زمانہ یا ان کے معاصر زمانہ کے اعتبار سے دیکھ سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ انسانی تاریخ کے آخری زمانے میں مہدی اور مسیح آئیںگے، لیکن وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر مہدی اور مسیح کو ایک مستثنیٰ شخصیت مانتے ہیں۔ مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ مہدی اور مسیح جب آئیں گے تو آتے ہی اُن کی تاج پوشی کی جائے گی اور تمام مسلمان متفقہ طورپر ان کو اپنا سردار بنالیں گے۔ بطور واقعہ جو کچھ ہونے والا ہے، وہ اِس کے بالکل برعکس ہے۔ قدیم زمانے کے یہود پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر تھے، مگر ان کا حال یہ ہوا کہ جب پیغمبر آئے تو وہ ان کا انکار کرنے والے بن گئے (2: 89) ۔ یقینی طورپر یہی واقعہ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا ہے۔ مہدی اور مسیح جب ظاہر ہوں گے تو موجودہ مسلمان یقینی طورپر ان کا انکار کرنے والے بن جائیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک حدیث رسول کے مطابق، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان والوں کے لیے یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ آل محمد کو بقدر کفاف روزی دے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے اس قسم کی دعا کیوںکی، حالاں کہ مال بھی کسب آخرت کے وسائل میں سے ہے۔ براہِ کرم، اِس کی وضاحت فرمائیں۔ (عبد الباسط عمری، دوحہ، قطر)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ حدیث صحیح البخاری میںاِن الفاظ میں آئی ہے: اللہم ارزق آل محمد قوتاً (کتاب الرقاق)۔ اس کے علاوہ، مذکورہ حدیث صحیح مسلم، الترمذی، النسائی اور ابن ماجہ میں حسب ذیل الفاظ میں آئی ہے: اللہم اجعل رزق آل محمد قوتاً۔ دونوں روایتوں کا مفہوم ایک ہی ہے، یعنی اے اللہ، آل محمد کا رزق بقدر قُوت یا بقدر کفاف عطا فرما۔ اِس کا مطلب ہے گزارہ (sustenance) کے بقدر روزی۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم مال والا ہونا افضل ہے اور زیادہ مال والا ہونا غیر افضل ہے۔ یہ بات دراصل عملی پہلو کے اعتبار سے کہی گئی ہے، نہ کہ اصولی اعتبار سے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مال کو قرآن میں قیام (4: 5) کہاگیا ہے، یعنی زندگی کے لیے مددگار(supporter) ۔ اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ زیادہ مال دے اور وہ اس کو امورِ خیر میں لگائے، وہ اس کو دعوت الی اللہ کے کام میں استعمال کرے تو بلا شبہہ ایسا مال ایک نعمت ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ زیادہ مال پاکر آدمی اس کو اپنی مادی سہولتوں میں اضافے کے لیے استعمال کرے تو ایسا مال اس کے لیے غیر مطلوب بن جائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہلِ خاندان کے لیے جو دعاء فرمائی، وہ اعلیٰ معیار کی نسبت سے نہ تھی، بلکہ عملی (practical) تقاضے کی بنا پر تھی۔ کیوں کہ ننانوے فی صد سے زیادہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ زیادہ مال کو عیش وعشرت میں اضافے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اِس لیے آپ نے مذکورہ قسم کی دعا فرمائی۔ یہ دعاء مطلق معنی میں نہیںہے، اِس لیے حدیث میںآیا ہے کہ: نعم المال الصالح للرجل الصالح (اچھا مال اچھے آدمی کے لیے بہترین سرمایہ ہے)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it