Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala January 2011
Al-Risala January 2011

تاریخ کا قانون

Urdu · 2 min read

تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل کوہستانی علاقے سے نکلے۔ وہ بارہ ہزار کی تعداد میں تھے۔ انھوں نے عباسی سلطنت پر حملہ کیا اور اس کا خاتمہ کردیا۔ انھوںنے سمر قند سے لے کر حلب تک زبردست تباہی برپا کی۔ مورخ ابن اثیر (وفات:1234ء) اُس وقت زندہ تھے۔ انھوںنے اِس تباہی کو براہِ راست طورپر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ اپنا تاثر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: لقد بُلی الاسلام والمسلمون فی ہذہ المدۃ بمصائب لم یبتل بہا أحدٌ من الأمم (الکامل فی التاریخ، جلد 12، صفحہ 360 ) یعنی اسلام اور مسلمان اِس زمانے میں ایسی مصیبتوں میں مبتلا ہوئے جیسی مصیبت میں کبھی کوئی قوم مبتلا نہیں ہوئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مورخ ابن اثیر بعد کے حالات دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہے۔ اگر وہ زندہ رہتے اور بعد کے حالات دیکھتے تو یقینا وہ کہتے کہ تاریخ کو بنانا کسی قوم کے ہاتھ میں نہیں ہے، بلکہ وہ براہِ راست خدا کے ہاتھ میں ہے۔ چناں چہ وہاں یہ واقعہ ہوا کہ نصف صدی کے اندر اسلام کی صداقت غالب آئی اور تاتاریوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اِس کے بعد یہی تاتاری تھے جس کی اگلی نسلوں نے مسلم دنیا میں ڈھائی جانے والی مسجدوں کو دوبارہ تعمیر کیا اور عظیم ترک خلافت قائم کی۔

حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیا کا نظام تبدیلی کے اصول پر قائم ہے۔ اِس دنیا کے لیے اس کے خالق نے یہ مقدر کردیا ہے کہ یہاں ہر عسر کے بعد یسر آئے، ہر ناکامی کے بعد دوبارہ کامیابی کا دروازہ کھلے۔ ہر شام کے بعد دوبارہ نئی شان کے ساتھ آفتاب نکلے۔

یہ ایک ایسا ابدی قانون ہے جس میں کبھی فرق نہیں آتا۔مزید یہ کہ اِس قانون کا تعلق صرف اہلِ اسلام سے نہیںہے، بلکہ اس کا تعلق تمام انسانوں سے ہے۔ تمام انسانوں کے لیے ان کے رب نے یہ مقدر کردیا ہے کہ اُن پر مختلف قسم کے حالات گزریں، تاکہ وہ اپنے رب کو ہمیشہ دریافت کرتے رہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content