رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں5 ہجری میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو غزوۂ خندق کہا جاتا ہے۔اُس وقت حفاظت کی غرض سے عورتوں اور بچوں کو ایک حصن (قلعہ) میں رکھا گیا تھا۔ اس کی نگرانی پر حسان بن ثابت انصاری مقرر کیے گیے تھے۔ صفیہ بنت عبد المطلب کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ قلعہ کے پاس ایک یہودی آگیا ہے اور مشتبہ انداز میں وہاں گھوم رہا ہے۔ میں نے حسان سے کہا کہ اِس یہودی سے ہمیں خطرہ محسوس ہورہا ہے، اِس کو مار کر یہاں سے بھگاؤ۔ حسان نے جواب دیا: یغفر اللہ لک یا ابنۃ عبد المطلب، واللّٰہ لقد عرفتِ ما أنا بصاحب ہذا (سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ 246) یعنی اے عبد المطلب کی بیٹی، اللہ تم کو معاف کرے، بخدا تم کو یہ معلوم ہے کہ میں اِس کام کا آدمی نہیں۔ حسان بن ثابت انصاری (وفات: 54ھ) ایک صحابیٔ رسول تھے۔ اِس اعتبار سے، ان کا مذکورہ واقعہ ایک اسلامی نمونے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح صحابہ کے دوسرے واقعات ہمارے لیے نمونہ ہیں، اُسی طرح حسان بن ثابت کا مذکورہ واقعہ بھی ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔ وہ نمونہ یہ ہے کہ آدمی کوئی ایسی ذمے داری ہر گز قبول نہ کرے جس کے لیے وہ اپنے آپ کو اہل نہ پاتا ہو۔ اِس لیے کہ نا اہلی کے باوجود اگر وہ کسی اجتماعی ذمے داری کو قبول کرتا ہے تو وہ صرف بگاڑ میں اضافے کا باعث بنے گا۔مثال کے طورپر ایک شخص مخلص ہے، مگر وہ سیاست کا تجربہ نہیں رکھتا، تو اس کو ہر گز سیاست کے میدان میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔ ایک شخص روایتی عالم ہے، لیکن اس نے جدیدیات کا براہِ راست مطالعہ نہیں کیا ہے تو اس کو جدید طبقے کی رہنمائی کا کام نہیں سنبھالنا چاہیے۔ ایک شخص کی تربیت درس وتدریس کے ماحول میں ہوئی ہے تو اس کو تحریکِ جہاد کا رہنما نہیں بننا چاہیے۔ ایک شخص صرف مسجد اور مدرسے کے ماحول کو جانتا ہے تو اس کو عالمی قیادت کے اسٹیج پر نہیں آنا چاہیے۔ ایسے ہر موقع پر اخلاص کا تقاضا ہے کہ آدمی یہ کہہ دے کہ: ما أنا بصاحب ہذا (میں اِس کام کا اہل نہیں)۔ نااہلی کے باوجود رہنمائی کے میدان میں داخل ہونا، بلاشبہہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔ کسی آدمی کا مخلص ہونا، ایسے احمقانہ اقدام کے لیے ہرگز کوئی عذر نہیں بن سکتا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔