ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوںنے کہا کہ اسلام کو میں سچا مذہب مانتا ہوں ، لیکن میرے کچھ شبہات ہیں۔ مثلاً معجزہ کی عقلی توجیہہ میری سمجھ میں نہیں آتی ۔ اِسی طرح پانچ وقت کی نماز کا قرآن میں مجھے ثبوت نہیں ملتا، وغیرہ۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ اپنے اِن خیالات کو دوسروں سے بیان کرتے رہتے ہیں۔
میںنے اُن سے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ میرا یہ مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ اپنے کو ابھی صرف ایک اسٹوڈنٹ سمجھئے۔ آپ یہ سمجھیں کہ آپ ایک متلاشی (seeker) ہیں اور باتوں کو گہرائی کے ساتھ جاننے کے لیے اسٹڈی کررہے ہیں۔ اِس بارے میں جب تک آپ کی رسرچ مسلمہ علمی معیار پر مکمل نہ ہوجائے، آپ ہر گز اِن باتوں کی چرچا دوسروں سے نہ کریں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کا کیس فتنہ پردازی کا کیس بن جائے گا، نہ کہ تلاشِ حق کا کیس، اور فتنہ پردازی بلا شبہہ اتنی زیادہ بری چیز ہے کہ کوئی سنجیدہ آدمی اُس کا تحمل نہیں کرسکتا۔
میں نے کہا کہ متلاشی (seeker) بننا، ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ سچائی کا متلاشی بننا اور اس کے لیے تحقیق کرنا، یہ بلاشبہہ ہر انسان کا حق ہے۔ لیکن یہ کسی کا حق نہیں کہ وہ گہرے مطالعے کے بغیر بڑی بڑی باتیں بولنے لگے ۔ حق کی تلاش اگر علمی دیانت داری ہے، تو تلاش کا حق ادا کیے بغیر اُس پر غیرذمے دارانہ کلام کرنا، علمی بددیانتی (intellectual dishonesty) کی حیثیت رکھتاہے۔
میںنے کہا کہ آپ کے لیے دو میں سے ایک کا آپشن (option) ہے— یا تو آپ خاموش رہیں، اپنی بات کو اپنے دل میں رکھیں، دوسروں سے نہ کہیں۔ یا آپ اتنا زیادہ مطالعہ اور رسرچ کریں کہ خالص علمی اور سائنسی معیار پر ایک بیان (statement) دینے کے قابل ہوجائیں۔ اِس وقت آپ جو کررہے ہیں، وہ تھرڈ آپشن (third option) ہے، اورکسی کے لیے تھرڈ آپشن لینا، دینی اعتبار سے ناجائز ہے اور علمی اعتبار سے غیرمعقول۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.