امریکا کے عراق پر حملے سے پہلے عام طور پر مسلمانوں میں امریکا کے بارے میں اچھی رائے تھی۔ اُس وقت عرب لوگ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے تھے کہ: أمریکا صدیق کبیر (امریکا ایک بڑا دوست ہے) لیکن بعد کے زمانے میں جب امریکا کی فوجوں نے عراق اور افغانستان پر حملہ کیا تو اس کے بعد لوگوں کی رائے بدل گئی۔ اب عرب عام طور پر یہ کہنے لگے کہ: أمریکا عدوّ الاسلام رقم واحد (امریکا اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے)۔ امریکا کے بارے میں یہ منفی رائے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں میں پائی جاتی ہے، خواہ وہ عرب ہوں یا غیر عرب۔ یہ سوچ موجودہ دنیا میں قابلِ عمل نہیں، چناں چہ اِس سوچ نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو امریکا کے بارے میں دو عملی میں مبتلا کردیا ہے، یعنی امریکا کو برا سمجھنا اور اسی کے ساتھ امریکا سے مادی فائدہ اٹھانا۔مسلمانوں کا یہ ذہن قرآنی ذہن نہیں ہے۔ قرآن کی سورہ المائدہ میں ایک آیت آئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: کسی گروہ کی دشمنی تم کو اِس پر نہ آمادہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (5: 8)۔
اِس آیت کا تقاضا ہے کہ امریکا کے معاملے میں مسلمان انصاف سے کام لیں اور حقیقت پسندانہ رائے قائم کریں۔ مثلاً مسلمانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیوں ایسا ہے کہ امریکا نے عراق پر بم باری کی، لیکن وہی امریکا سعودی عرب کی بھر پور حمایت کرتا ہے۔ امریکا ایک طرف اسرائیل کی مدد کرتا ہے اور دوسری طرف وہی امریکا پاکستان کو غیر معمولی مدد دے رہا ہے۔ جارج بش سینئر کے د ور سے پہلے امریکا میں ایک بھی مسجد نہیں تھی اور آج امریکا میں ایک ہزار سے زیادہ مسجدیں (اسلامک سنٹر) ہیں۔ امریکا میں اسلام کے نام پر جتنی سرگرمیاں ہوتی ہیں، اتنی سرگرمیاں غالباً کسی مسلم ملک میں بھی نہیں، وغیرہ۔
اس تقابل پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ امریکا کا کیس نہ اینٹی اسلام کیس ہے اور نہ پرومسلم کیس، بلکہ اس کا کیس پروامریکا (pro-America) کیس ہے، یعنی امریکا جو کچھ کررہا ہے، وہ اپنے قومی مفاد کے لیے کررہا ہے، نہ کہ اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی کے لیے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔