Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Al-Risala January 2011
Al-Risala January 2011

تاریخِ بشری کے پانچ دور

Urdu · 6 min read

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیداکیا اور اس کو خصوصی اہتمام کے ساتھ سیارۂ ارض (planet earth) پر بسایا۔انسان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلسل پیغمبر بھیجے۔اِس سلسلۂ نبوت کے آخری پیغمبر محمد ﷺ تھے۔ اِس کے بعددعوت الی اللہ کی تاریخ مختلف اَدوار سے گزرتی رہی۔ اکیسویں صدی عیسوی میں وہ اپنے آخری دور میں پہنچ چکی ہے۔ اِس آخری دور کے خاتمہ کے بعد قیامت برپا ہوگی اور پھر تاریخ بشری کا وہ تکمیلی دور شروع ہوجائے گا جس کو جنت کا دور کہاگیا ہے۔ انسانی تاریخ کے یہ پانچ ادوار حسب ذیل ہیں:

1 - اعلان حق (proclamation of divine truth)

2 - اظہارِ دین (reprocessing of hisotry)

3 - تائید دین (supporting role)

4 - ادخالِ کلمہ (global dawah)

5 - دورِ جنت(age of eternal paradise)

دعوت کی نسبت سے تاریخ بشری کا پہلا دور آدم سے شروع ہوا، جو کہ پہلے انسان (first man) بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اِس پہلے دورکا خاتمہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور پر ہوا۔ آپ نے 610 عیسوی میں اپنی نبوت کاآغاز کیا۔ اِس پہلے دور میں جو کام انجام پایا، وہ بنیادی طورپر یہ تھا کہ ہر نسل کے انسانوں کو وحی پر مبنی سچائی سے آگاہ کردیا جائے۔

آخری پیغمبر کے زمانے میں خدا کی کتاب (قرآن) مکمل طورپر ایک محفوظ کتاب (preserved book) بن گئی۔ بعد کے دور میں یہ محفوظ کتاب، ہدایت کے حصول کے لیے پیغمبر کا بدل بن گئی۔ اِس لیے پیغمبر آخر الزماں کے بعد کوئی پیغمبر اللہ کی طرف سے بھیجا نہیں گیا۔

دوسرے دور کے کام کو قرآن میںاظہارِ دین (48: 28) کہاگیا ہے۔ یہ کام بنیادی طورپر ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کی طاقت ور ٹیم کے ذریعے انجام پایا۔ اصحابِ رسول جن کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ تھی، انھوں نے ، اور اِس کے بعد تابعین کی جماعت نے اِس کام کو بخوبی طورپر انجام دیا۔ اِس کام کی خصوصی اہمیت کو اگر مذہبی اصطلاح میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ انھوں نے دورِ شرک کو ختم کرکے دورِ توحید کا آغاز کیا۔ اور اگر اِس کام کو سیکولر اصطلاح میں بیان کیاجائے تو یہ کہا جائے گا کہ انھوںنے توہم پرستی (superstition) کے دور کو ختم کیا اور سائنس کے دور کا آغاز کیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صحابہ اور تابعین کے اِس عمل کا مطلب یہ نہیں تھا کہ انھوںنے اپنی زندگی میں سارے واقعے کو براہِ راست طورپر انجام دے دیا۔ ان کے رول کی اصل اہمیت یہ ہے کہ انھوںنے انسانی تاریخ میں ایک نیا پراسس (process) شروع کیا۔ یہ پراسس تقریباً ایک ہزار سال میں اپنی آخری تکمیل (culmination) تک پہنچا۔ اِس کے نتیجے میں دنیا میں دعوت کے موافق حالات پیدا ہوئے۔ مثلاً مذہبی آزادی آئی، جمہوریت کا زمانہ آیا، حقیقت پسندی، بالفاظ دیگر سائنسی طرز فکر کا رواج شروع ہوا، وغیرہ۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے درمیان ظہور میں آنے والا سائنسی انقلاب دراصل اُسی پراسس کی تکمیل ہے جو ساتویں صدی عیسوی میں صحابہ اور تابعین کے ذریعے عرب میں شروع ہوااور پھر بتدریج وہ یورپ تک پہنچا۔

اِس تاریخی عمل کا تیسرا دور وہ ہے جس کو حدیث میں تائید ِ دین کہاگیا ہے۔ مذکورہ کام کی انجام دہی کے بعد اب ضرورت تھی کہ خدائی سچائی کو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچا دیا جائے۔ مگر اِس عالمی دعوت کی انجام دہی کے لیے امتحان کی اِس دنیا میں اسباب کی ضرورت تھی۔ خصوصی طورپر ایسے مواصلاتی ذرائع جن کی مدد سے پیغام رسانی کے کام کو عالمی سطح پر انجام دینا ممکن ہوجائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عالمی دعوت کے لیے ایسے مواصلاتی نظام کو وجود میںلانے کا کام مسلمان انجام نہ دے سکے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے اِس مقصد کے لیے مغرب کی غیر مسلم قوموں کو استعمال کیا۔ یہ گویا کہ وہی طریقہ ہے جس کو موجودہ زمانے میں آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہاجاتا ہے۔ مغربی قوموں نے لمبی جدوجہد کے بعد ایک نیادور پیدا کیا۔ یہ دور مواصلاتی دور (age of communication) ہے جو عالمی پیغام رسانی کے لیے لازمی طورپر ضروری ہے۔ اِن موافق اسباب کی فراہمی کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا کو استعمال کرکے خداکے کلام کو ساری دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچا دیا جائے۔ آؤٹ سورسنگ کے اِس طریقے کو حدیث میں پیشگی طورپر بتادیاگیا تھا۔ ایک طویل حدیث میں اِس اصول کو اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن اللہ لیؤیّد ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب: إن اللہ لیؤیّد ہذا الدین بالرجل الفاجر ) یعنی اللہ بے شک اِس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے بھی کرے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ادخالِ کلمہ

ادخالِ کلمہ سے مراد وہ وہ دعوتی عمل ہے جس کو حدیث میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: لا یبقیٰ علی ظہر الأرض بیتُ مدر ولا وبر إلاّ أدخلہ اللہ کلمۃَ الاسلام، بعزّ عزیز وذُلّ ذلیل (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 4 ) یعنی زمین کی سطح پر کوئی چھوٹا گھر یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اُس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کردے گا، عزت والے کی عزت کے ساتھ اور ذلت والے کی ذلت کے ساتھ(willingly or unwillingly) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پچھلی صدیوں میں خدا کا دین مستند متن (authentic text) کے اعتبار سے پوری طرح محفوظ ہوگیا۔ اِس کے بعد دنیامیںمذہبی آزادی کا دور اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ قائم ہوگیا۔ اِس کے بعداگلا کام یہ ہوا کہ دنیا میں جدید مواصلات(modern communication) کا زمانہ پوری طرح آگیا۔ اِن موافق اسباب کے ظہور کے بعد اب اکیسویں صدی میں آخری طور پر جو کام انجام پانا ہے، وہ یہ کہ ادخالِ کلمہ کی پیشین گوئی پوری ہو اور جدید مواصلاتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے خدا کا کلام تمام دنیا کے مردوں اور عورتوں تک پہنچ جائے۔

تاریخِ دعوت کے پہلے دور کا کام (اعلانِ حق) خدا کے پیغمبروں کے ذریعے انجام پایا۔ دوسرے دور کا کام (اظہاردین) بنیادی طور پر اُن لوگوں نے انجام دیا جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ تیسرے دور کا کام (تائید دین) اُن لوگوں نے انجام دیا جن کو ہم سائنس دانوں کے گروہ (scientific community)کے نام سے جانتے ہیں۔ چوتھے دور کے کام (ادخالِ کلمہ) کو اکیسویں صدی عیسوی میں انجام پانا ہے۔ جو اہلِ ایمان تاریخِ دعوت کے اِس تقاضے کو سمجھیں اور اس کو درست طورپر انجام دیں، وہ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، اللہ کے یہاں اخوانِ رسول کا درجہ پائیں گے۔ اِسی چوتھے کام کی انجام دہی پر تاریخ کا خاتمہ ہوجائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابدی جنت کا دور

اکیسویں صدی عیسوی میں واضح طورپر ایسے آثار پیدا ہوچکے ہیں جو تقریباً یقینی طورپر بتاتے ہیں کہ قیامت بالکل قریب آچکی ہے۔ غالباً اکیسویں صدی ہی میں وہ وقت آجائے گا، جب کہ اسرافیل کا صور پھونکا جائے اور انسانی تاریخ دورِ امتحان سے نکل کر دورِ انجام تک پہنچ جائے۔ اِس کے بعد وہ ابدی دور شروع ہوگا جب کہ امتحان میں پورا اترنے والے لوگ جنت کی معیاری دنیا میں داخل کردئے جائیں، اور امتحان میں ناکام ہونے والے لوگ جہنم کی پُرعذاب زندگی میں رہنے کے لیے مجبور کردئے جائیں، جہاں وہ ابدی طورپر حسرت ویاس میں پڑے رہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content