دعوت اور اصلاح دونوں بظاہر ایک قسم کے کام ہیں، لیکن دونوں کے درمیان ایک نوعی فرق پایا جاتا ہے — اصلاح ایک روایتی عمل ہے، اور دعوت اس کے مقابلے میں ایک تخلیقی عمل۔ روایتی عمل کسی گروہ کے موجود ذہن کی بنیاد پر چلتا ہے۔
یہ گروہ اگر ایک زوال یافتہ گروہ ہو تو پھر اس کی اصلاح کا عمل بھی اسی کے ہم سطح ہوجائے گا، یعنی وہ گروہ کے زوال یافتہ ذہن کو فیڈ(feed) کرے گا۔ اِسی بنا پر روایتی اصلاح کا کام کرنے والوں کے گرد بہت جلد ایک بھیڑ اکھٹا ہوجاتی ہے، لیکن اس بھیڑ کے اندر کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی۔ اس بھیڑ کی حیثیت ٹھیک وہی ہوتی ہے جس کو حدیث میں غُثاء (جھاگ)کہاگیا ہے، یعنی بظاہر بہت سے لوگ مگر حقیقت کے اعتبار سے ایک شخص بھی نہیں۔
دعوت کا عمل، اس کے مقابلے میں ایک تخلیقی(creative) عمل ہے۔ دعوت کے عمل میں داعی وقت کے رجحانات کو پڑھتا ہے، وہ دعوت کو ایسے اسلوب (idiom) میں بیان کرتا ہے، جس سے مدعو کا ذہن ایڈریس (address) ہوسکے۔
دعوت کاعمل ایک اجتہادی عمل ہے۔ دعوت کا عمل خود داعی کی دریافت سے شروع ہوتا ہے۔ یہ دریافت داعی کو ایک نئی اسلامی شخصیت بنا دیتی ہے، پھر داعی کوشش کرتا ہے کہ وہ مدعو کو بھی دریافت کا تجربہ کرائے، وہ مدعو کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا کرے، وہ مدعو کے اندر چھپے ہوئے فطری شعور کو جگائے، وہ مدعو کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ حقیقت کو ایک خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered reality)کے طورپر پائے، نہ کہ سنی سنائی بات کے طور پر۔
دعوت اور اصلاح کے درمیان اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اصلاح شروع سے آخر تک ایک بے روح عمل بنا رہتا ہے اور دعوت شروع سے آخر تک ایک زندہ اور تخلیقی عمل— دعوت ایک انقلابی عمل ہے، اور داعی ایک انقلابی انسان۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔