اسلام، تاریخ کا ایک عظیم ترین انقلاب تھا، لیکن اِس حقیقت کو نہ مسلم اہلِ علم نے سمجھا اور نہ غیرمسلم اہلِ علم نے۔ مسلمانوں نے پیغمبر اسلام ﷺکو صرف اپنے قومی فخر کے طور پر دریافت کیا۔ ڈاکٹر مائیکل ہارٹ صرف یہ دریافت کرسکے کہ رسول اللہ تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے:
Muhammad was the supremely successful man in history.
ساتویں صدی عیسوی میں پیش آنے والااسلامی انقلاب دراصل مبنی بر توحید انقلاب تھا۔ اِس سے پہلے کی پوری تاریخ میں انسانی زندگی کا نظام شرک پر مبنی نظام ہوا کرتا تھا۔ اسلامی انقلاب نے پہلی بار مبنی بر شرک نظام کو توڑا اور اس کی جگہ تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا جس کو توحید پر مبنی دور کہا جاسکتا ہے۔ بعد کی صدیوں میں انسانی زندگی میں جو تعمیری واقعات ہوئے، وہ اِسی انقلاب کا براہِ راست یا بالواسطہ نتیجہ تھے، خواہ وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مذہبی ہوں یا سیکولر۔
یہ انقلاب اصلاً ایک نظری اور اعتقادی انقلاب تھا۔ اس کے اندر اعلیٰ معرفت کا سامان تھا، اس کے اندر ربانی غذائیں چھپی ہوئی تھیں، اس کے اندر وہ تمام اجزا موجود تھے جن کے ذریعے انسانی شخصیت کا مثبت ارتقا کیا جاسکے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ انسان اپنی مادّی خواہشوں کے پیچھے دوڑ پڑا۔ اس نے اِس انقلاب کے سیکولر پہلو کو لیا اور اور اس کے مذہبی اور روحانی پہلو کو چھوڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی تاریخ شرک کے دور سے نکل کر الحاد کے راستے پر چل پڑی۔
اب وقت آگیا ہے کہ اِس غلطی کی تصحیح کی جائے۔ انسانی تاریخ کو دوبارہ الحاد کے راستے سے ہٹا کر توحید کے راستے پر لایا جائے، تاکہ انسان اُن نعمتوں کو پاسکے جو اُس کے لیے اِس دنیا میں مقدر کی گئی ہیں، یعنی خالق کی اعلیٰ معرفت، انسانی شخصیت کا ربانی ارتقاء، اعترافِ الٰہی کے اعلیٰ تجربات کو پانا، حقیقی معنوں میں ایک روحانی سائنس کو وجود میں لانا، اُس ربانی انسان کی تشکیل جو آخرت کی زندگی میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے، وغیرہ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔