دعاء کوئی سادہ چیز نہیں، دعا دراصل خدا کو انووک (invoke) کرنا ہے۔ دعاء گویا کہ خدا کی قدرت کو مخاطب کرنا ہے ۔ بلاشبہہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک سچی دعا جب ایک عاجز انسان کی زبان سے نکلتی ہے تو بلا شبہہ وہ خدا کی غیرت کے لیے ایک چیلنج کے ہم معنی ہوتی ہے۔ جب ایک عاجز انسان حقیقی سائل بن کر اللہ کے آگے اپنا ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ اپنے مسئلے کو اللہ کا مسئلہ بنا دیتا ہے۔ اُس وقت گویا اللہ کے لیے ممکن نہیں رہتا کہ وہ اس کو خالی ہاتھ لوٹا دے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیثِ رسول میںاِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن اللہ حییّ کریم یستحیی إذا رفع الرجل إلیہ یدیہ أن یردہما صفرا خائبتین (الترمذی ،رقم الحدیث: 3556 )
دعاء کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ الخ جیسی دعائیں یاد کرلے اور اس کو پڑھتا رہے۔ دوسری زیادہ موثر صورت یہ ہے کہ کسی واقعے کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر دعاء کی جائے۔ مثلاً برٹش دور میں لکھنؤ میںایک کلکٹر تھے۔ ان کا نام صدیق حسن (آئی سی ایس) تھا۔ انھوں نے اُس زمانے کے ایک ڈاکو سُکھوا کو پکڑا اور اس کو ہتھکڑی لگا کر ڈاک بنگلہ کے ایک کمرے میں بند کردیا۔یہ سخت سردی کا زمانہ تھا۔ رات کے وقت صدیق حسین صاحب راؤنڈ پر نکلے تو اُن کو دیکھ کر سکھوا ڈاکو نے کہا: جنٹ صاحب، آپ کا سکھوا سردی کھارا ہے۔ یہ سن کر صدیق حسن صاحب اپنے کمرے میں گئے اور خود اپنا کمبل لا کر سکھوا ڈاکو کو اڑھا دیا۔
اِس واقعے کو لے کر کوئی کہے کہ خدایا، سکھوا ایک مجرم تھا۔ اِسی کے ساتھ وہ ایک عاجز انسان تھا۔ کلکٹر نے سکھوا کے عاجز ہونے کی حیثیت کو اس کے مجرم ہونے کی حیثیت سے الگ کرکے دیکھا اور پھر اس کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کیا۔ تو بھی میرے ساتھ اِسی طرح کا معاملہ فرما۔ میرے قصور وار ہونے کی حیثیت کو نظر انداز کراور عاجز ہونے کی حیثیت سے میرے ساتھ رحمت کا معاملہ فرما۔ اگر کوئی بندہ اِس طرح کہے تو عین ممکن ہے کہ اللہ اس کی التجا کو قبول کرتے ہوئے اس کو معاف کردے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔