حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہ ہدایت دی کہ تم کسی بھی حال میں حکمرانوں سے ٹکراؤنہ کرنا۔ اگر تم سیاسی بگاڑ دیکھو تو اُس سے اعراض کرتے ہوئے غیر سیاسی دائرے میں اپنا کام جاری رکھنا۔ یہ روایتیں احادیث کے مجموعے میں کتاب الفتن کے تحت دیکھی جاسکتی ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت ایک اہم حکمت (wisdom) پر مبنی ہے، وہ یہ کہ قانونِ فطرت کے تحت اِس دنیا میں کبھی معیاری سیاسی نظام نہیں بن سکتا۔ جو نظام جب بھی بنے گا، وہ یقینی طورپر آئڈیل سے کم ہوگا۔ ایسی حالت میں پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) یہ ہے کہ لوگ سیاسی نظام کے معاملے میں معیار سے کم (less than ideal) پر راضی ہوجائیں۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں مستقل سیاسی ٹکراؤ جاری رہے گا اور کبھی امن اور اعتدال کی حالت قائم نہ ہوگی، جب کہ تعمیری کام کرنے کے لیے امن اور اعتدال کی حالت لازمی طورپر ضروری ہے۔
موجودہ زمانے میں اس کی ایک مثال مصر ہے۔ اسلام پسند عرب لیڈر سیاسی بگاڑ کے نام پر شاہ فاروق بن فواد (وفات:1965 ) کے خلاف ہوگئے، حتی کہ فوج کی مدد سے انھوںنے 1952 میں شاہ کو مصر چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد جنرل نجیب محمد (وفات: 1984) مصر کے صدر بنائے گئے اور دوبارہ اختلافات شروع ہوگئے، یہاں تک کہ 1952 میں ان کو عہدے سے معزول کرکے ہاؤس اریسٹ کردیاگیا ۔ اس کے بعد جمال عبد الناصر مصر کے صدر بنے، مگر اسلام پسند لیڈروں سے ان کا ٹکراؤ اور زیادہ بڑھ گیا، یہ ٹکراؤ جاری رہا، یہاں تک کہ 1970 میں 52 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد محمد انور السادات مصر کے صدر بنے یہاں تک کہ 1981 میںان کو گولی مار دی گئی۔ اس کے بعد سے حسنی مبارک مصر کے صدر ہیں، اور حال یہ ہے کہ اسلام پسند عربوں سے ان کا سیاسی اختلاف بدستور جاری ہے — تقریباً 60 سال کی نام نہاد اسلامی سیاست نے مصر کو تباہی کے سوا کچھ اور نہیں دیا ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔