پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر 610 عیسوی میں قرآن کا پہلا حصہ اترا۔ اس کا پہلا لفظ یہ تھا: اقرأ،یعنی اے پیغمبر، تم مُقری بن جاؤ، مقری کے لفظی معنی ہیں پڑھ کر سنانے والا (reciter) اس آیت کے نزول کے فوراً بعد یہ ہوا کہ پیغمبر اسلام مقری بن گئے۔ اُس وقت آپ مکہ میں تھے۔ آپ جہاں بھی دیکھتے کہ کچھ لوگ اکھٹا ہیں، آپ وہاں جاتے اور قرآن کے نازل شدہ حصہ کو انھیں پڑھ کر سناتے، چناں چہ روایتوں میں آتا ہے کہ: عرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن۔
پیغمبر اسلام کے اصحاب نے بھی اِسی طریقہ کو اختیار کرلیا، ہر صحابی عملاً مقری بن گیا۔ انٹریکشن (interaction) کے دوران جب بھی کوئی صحابی کچھ لوگوں کو پاتا، وہ مقری بن کر ان کو قرآن کے حصے پڑھ کر سناتا۔ مقری کا لفظ اگر چہ مکی دور میں استعمال نہیں ہوا، یہ لفظ پہلی بار اس وقت استعمال ہوا جب ہجرت سے کچھ پہلے ایک صحابی (مصعب بن عمیر) مکہ سے مدینہ بھیجے گئے، وہ وہاں یہی کرتے تھے کہ جس مقام پر وہ دیکھتے کہ کچھ اہل مدینہ اکھٹا ہیں، وہاں وہ چلے جاتے اور قرآن کا کچھ حصہ انھیں پڑھ کر سناتے۔ یہی ان کا دعوہ ورک تھا ، مدینہ میں ان کو مقری کہا جانے لگا، یعنی داعی۔یہی دعوت کا اصل کام ہے، یعنی قرآن کو پڑھ کر سنانا، رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں پرنٹنگ پریس وجود میں نہیں آیا تھا، اُس وقت کسی مومن کے لیے مقری یا داعی بننے کی ایک ہی ممکن صورت تھی، یہ کہ وہ قرآن کو یاد کرے، اور حافظہ کی مدد سے قرآن کے حصے لوگوں کو پڑھ کر سنائے۔
حدیث میں دو گروہوں کا خاص طورپر ذکر کیا گیا ہے، ایک اصحاب رسول اور دوسرے اخوانِ رسول۔ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اصحابِ رسول سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر اہلِ ایمان ہیں، انھوںنے رسول اللہ سے براہِ راست قرآن کو سنا، اور اس کو یاد کرلیا، پھر وہ حسبِ موقع لوگوں کو قرآن کے مختلف حصے پڑھ کر سناتے رہے، اس بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہر صحابی مقری تھا، مہاجر صحابہ بھی اور انصار صحابہ بھی۔ دعوت الی اللہ کا بنیادی طور پر یہی معیاری ماڈل ہے۔ قرون مشہود لہا بالخیر تک یہ ماڈل عملاً قائم رہا، لیکن بعد کے زمانے میں مختلف اسباب سے یہ ہوا کہ دعوت کا تصور شعوری یا غیر شعوری طورپر ملت کے ذہن سے حذف ہوگیا، اس کے بعد بھی اگر چہ اسلام خود اپنے زور پر پھیلتا رہا، لیکن جہاں تک مدوّن عربی لٹریچر کا تعلق ہے، اس میں دعوت کا شعور یکسر مفقود نظر آتا ہے۔
حدیث کے مطابق، ظہورِ اسلام کے ایک ہزار سال بعد ایک گروہ پیدا ہوگا، اِس گروہ کا نام حدیث میں اخوانِ رسول (صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ) بتایا گیا ہے، یعنی دورِ آخر میں اصحاب رسول والا رول ادا کرنے والا گروہ۔ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہوں گے جو بعد کے زمانے میں دوبارہ مقری کے رول کو دریافت کریں گے اور اس کو بھر پور طورپر انجام دیں گے۔
اس اعتبار سے تاریخ کو دو دور میں تقسیم کیا جاسکتا ہے — پرنٹنگ پریس سے پہلے کا دور، اور پرنٹنگ پریس کے بعد کا دور۔پرنٹنگ پریس سے پہلے کے دور میں مقری کا رول یہ تھا کہ قرآن کو حافظہ کی مدد سے یاد کرلینا اور اس کو پڑھ کر لوگوں کو سنانا، پرنٹنگ پریس کے وجود میں آنے کے بعد فطری طور پر مقری کا رول یہ ہوگا کہ وہ قرآن کے مطبوعہ نسخے تیار کریں اور اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم (distribute) کریں۔ پرنٹنگ پریس کے دور سے پہلے اس رول کا نام مقری تھا، اور پرنٹنگ پریس کے ظہور میں آنے کے بعد اس رول کا نام ڈسٹری بیوٹر (distributer) ہوگا۔ یہ تقسیم اور ڈسٹری بیوشن کوئی سادہ کام نہیں، یہ ایک عظیم نوعیت کی پُرامن مہم ہے۔ قدیم زمانے میں اِس مہم کے تحت مقری کلچر وجود میں آیا تھا، اب پریس کے دور میں اس مہم کے تحت دوبارہ ایک ڈسٹری بیوشن کلچر وجود میں آئے گا۔
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں یہ ہوگا کہ دنیا کے تمام گھروں میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل کردے گا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس حدیث میںادخال ِ کلمہ سے مراد ادخالِ قرآن ہے۔ آخری دنوں میں یہ عالمی واقعہ اخوانِ رسول کے ذریعہ پیش آئے گا۔ اصحاب رسول دورِ اول کے مقری بنے تھے، اخوانِ رسول دورِ آخر کے مقری ہوںگے۔ پرنٹنگ پریس سے پہلے کے زمانے میں اصحاب رسول نے قرآن کو پڑھ کر سنانے کے ذریعہ مقری کا رول ادا کیا تھا۔ آخری زمانے میں اخوان رسول، مقری کا یہی رول اِس طرح ادا کریں گے کہ وہ قرآن کے مطبوعہ نسخے ساری دنیا میں پہنچادیں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔