21 اپریل 2010 کو ایک واقعہ ہوا۔ نئی دہلی کے تین مورتی آڈیٹوریم میں سسٹینیبل ڈیولپمینٹ(Sustainable Development) کے موضوع پر ایک سیمنار تھا۔ اس سیمنار میں ٹاپ کے لوگ آئے ہوئے تھے۔ ایک بڑے لیڈر بھی اس میں موجود تھے۔ انھوںنے موضوع پر تقریر کی اور اسٹیج سے اٹھ کر باہر جانے لگے جہاں ان کی گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ ہماری ٹیم کے لوگ وہاں قرآن کا انگریزی ترجمہ لے کر گئے تھے اور لوگوں کو دے رہے تھے۔
ٹیم کی ایک ممبر سعدیہ خان نے جب دیکھا کہ مذکورہ لیڈر باہر جارہے ہیں تو وہ قرآن کا نسخہ اپنے ہاتھ میں لے کر تیزی سے بڑھیں، تاکہ وہ اس کو مذکورہ ہندو لیڈر کو دے دیں، مگر مذکورہ لیڈر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چلتے ہوئے گاڑی تک پہنچ گیے۔ سعدیہ خان جب وہاں پہنچیں تو منظر یہ تھا کہ ان کے ساتھیوں نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور مذکورہ لیڈر گاڑی کے اندر داخل ہوگئے۔ دروازہ ابھی پورا بند نہیں ہوا تھا کہ سعدیہ خان تقریباً چلا کر بولیں — ایکسکیوز می سر(Excuse me, sir)
مذکورہ لیڈر آواز سن کر ایک لمحہ کے لیے رک گئے۔ اتنے میں سعدیہ خان نے قرآن کا ایک نسخہ ان کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا—سر، یہ آپ کے لیے ہے:
This is for you, sir
سعدیہ خان کے اندر یہ غیر معمولی حوصلہ کہاں سے آیا، اس کا راز قرآن تھا۔ کوئی اور کتاب سعدیہ خان کے اندر یہ حوصلہ نہیں پیدا کرسکتی تھی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑا سرمایہ اس کا حوصلہ (courage) ہوتا ہے۔ قرآن بلا شبہہ سب سے بڑا سرمایۂ حوصلہ ہے۔ داعی وہ ہے جو قرآن کو اِس حیثیت سے دریافت کرلے— دعوت، مسلمان کا سب سے بڑا فریضہ ہے اور قرآن کتابِ دعوت ہونے کی حیثیت سے اس کے لیے حوصلے کا سب سے بڑا سر چشمہ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔