Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala February 2015
Al-Risala February 2015

قتلِ انسان

Urdu · 3 min read

قرآن کی سورہ المائدة میں قتلِ انسان کا حکم بتایا گیاہے- آیت کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢابِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ۭوَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا (5:32)- یعنی جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایاتو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خدا کی شریعت میں سب سے زیادہ سنگین جرم (serious crime) یہ ہے کہ کسی حقیقی سبب کے بغیر ایک انسان دوسرے انسان کو قتل کردے- ایسے ایک انسانی قتل کو قرآن میں سارے انسانوں کو قتل کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے- اس کا سبب یہ ہے کہ ایسا ایک واقعہ قتلِ انسانی کی حرمت کے بارے میں لوگوں کی حساسیت کو ختم کردیتا ہے- خدائی شریعت کے مطابق یہ مطلوب ہے کہ انسانی قتل کی حرمت کے بارے میں لوگ آخری حد تک حساس ہوں- مگر جب کسی مسلّمہ سبب (accepted reason) کے بغیر کسی کو قتل کردیا جائے تو لوگوں کے اندر احساس حرمت کا خاتمہ ہوجاتا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان کو پیدا کرنے والا، انسان نہیں ہے، بلکہ یہ خدا ہے جس نے انسان کو پیداکیا ہے- ایسی حالت میں کسی انسان کو ہر گز یہ حق نہیں ہے کہ وہ خدا کے پیدا کئے ہوئے انسان کو قتل کردے- اس قسم کا قتل صرف اس وقت جائز ہوسکتا ہے جب کہ خود خدا کی شریعت کے مطابق اس کا جواز ثابت ہوتا ہو- کوئی دوسرا عذر اس قسم کے فعل کو جائز ثابت نہیں کرتا- قاتل کا کوئی خود ساختہ عذر ہرگز ایسے فعل کے لئے کافی نہیں-

یہ فطرت کا عام اصول ہے- انسان نے پانی کو پیدا نہیں کیا، اس بنا پر انسان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع کرے- انسان نے غذا کو پیدا نہیں کیا، اس بنا پر انسان کے لئے جائز نہیں کہ وہ چاول کا ایک دانہ بھی ضائع کرے- یہی اصول شدید تر انداز میں انسان کے لئے ہے- کسی انسان نے انسان کو پیدا نہیں کیا، اس لئے کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایک انسان کو اس کی زندگی سے محروم کردے-

قتلِ انسان کا معاملہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے-انسان کا قتل دراصل خالق کے منصوبہ کا قتل ہے- انسان تخلیق کا سب سے زیادہ نادر نمونہ ہے- خالق نے اس نادر نمونے کو یقینا کسی عظیم مقصد کے تحت بنایا ہے- ہر انسان جو پیداہوتاہے، وہ ایک عظیم مقصد کے لئے پیداہوتا ہے- ایسی حالت میں کسی انسان کو قتل کرنا- سادہ طورپر ایک انسان کو قتل کرنے کے ہم معنی نہیں ہے، بلکہ وہ خود خالق کے تخلیقی منصوبے کو قتل کرنے کے ہم معنی ہے-

جب ایک انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ اس لئے پیداہوتا ہے کہ وہ اِس دنیا میں زندگی گزارے- وہ یہاں خالق کے منصوبہ کی تکمیل کرے- وہ اپنے بارے میں خالق کی امیدوں کو پورا کرے- ایک انسان کا پیدا ہونا اتنا ہی اہم ہے جتنا ایک درخت کا اگنا- ایک درخت جب اگتا ہے تو وہ اس لئے اگتا ہے کہ وہ باغِ عالم میں نمو (grow) کرے۔ وہ بڑھ کر پورا درخت بنے، اور دنیا والوں کو پھول اور پھل کا تحفہ دے- ایسے درخت کو کاٹنا اگر ایک درجہ کا جرم ہے تو انسان کو قتل کرنا ہزار بلین سے بھی زیادہ بڑے درجے کا جرم ہے-

انسان کو زندگی دینا کیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ با حیات رہ کر اپنے مقصد تخلیق کو پورا کرے، وہ اپنے مقصد تخلیق کو دریافت کرے، پھر اس کے مطابق وہ اپنے لئے ایک عملی منصوبہ بنائے، پھر حقیقت پسندانہ انداز میں اس کو مکمل کرنے کی کوشش کرے، وہ اپنے سماج کا ایک مفید عنصر بنے، وہ تاریخ انسانی کے اس باب کو لکھے، جو اس کے خالق نے اس کے لئے مقدر کیا ہے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content