← Al-Risala February 2015Al-Risala February 2015
جہاد یا قبائلی کلچر کی توسیع
Urdu · 5 min read
اسلام کے ابتدائی دور میں سن آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہوا-اس کے بعد عرب کے قبائل افواج (النصر: 1) کی صورت میں اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے- افواج سے مراد عمومی قبول اسلام (mass conversion) ہے۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تاریخی بات ان الفاظ میں فرمائی تھی: عن جابر قال سمعت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یقول: إن الناس دخلوا فی دین اللہ افواجا وسیخرجون منہ افواجا (مسند احمد: 14696) جابر بن عبد اللہ کہتےہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے، اور عن قریب وہ فوج در فوج اس سے نکل جائیں گے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جابر بن عبد اللہ مشہور صحابی ہیں- ان کی وفات 78ھ میں ہوئی- انھوں نے جنگ صفین (37ھ) کا زمانہ دیکھا تھا، جب کہ مسلمان علی اور معاویہ کی قیادت میں دو گروہوں میں بٹ گئے تھے، اور آپس میں خون ریزجنگ کی تھی- یہ مسلم تاریخ کی پہلی سول وار (civil war) تھی- اس جنگ میں دونوں فریق کے جو لوگ قتل ہوئے، ان کی مجموعی تعداد تقریباً ستر ہزار تھی (البدایة والنہایة، ابن کثیر، 7/274)-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ حدیث کے راوی جابر بن عبد اللہ ہیں- جابر بن عبد اللہ کے ایک پڑوسی کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے واپس آیا، اس وقت جابر بن عبد اللہ مجھ سے ملنے کے لئے آئے- انھوں نے امت کے افتراق اور باہمی جنگ کا ذکر کیا- اس پر جابر بن عبد اللہ روپڑے، انھوں نے روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حدیث بیان کی-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کے اندر افتراق اور بگاڑ کے واقعات کیوں پیش آئے- اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ لوگوں کی نیتوںمیں فساد آگیا تھا، یا ان کے اندر اخلاص ختم ہوگیا تھا- اس صورت حال کا واحد سبب وہ ظاہرہ ہے، جس کو کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتاہے-
کنڈیشننگ وہی چیز ہے، جس کو عرب کے ایک قدیم مقولہ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا تھا: من شبّ على شیٔ شاب علیہ (منار القاری شرح مختصر صحیح البخاری: صفحہ 60) یعنی آدمی جس چیز پر جوان ہوتا ہے، اسی پر وہ بوڑھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جوانی کی عمر میں جس ماحول میں آدمی کی کنڈیشننگ ہوتی ہے، اس کا اثر اس کی زندگی میںآخری وقت تک باقی رہتا ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ حقیقت ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: کل مولود یولد على الفطرة فأبواہ یہودانہ، أو ینصرانہ، أو یمجسانہ (صحیح البخاری: 1385) یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی بنادیتے ہیں، یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنادیتے ہیں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلم نسلوں میں بعد کے زمانے میں جوبگاڑ پیداہوا، ان سب کا اصل سبب یہی کنڈیشننگ کا معاملہ تھا- عمومی قبولیت اسلام (mass conversion) کی بنا پر لوگ بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے- دور پریس سے پہلے تعلیم وتربیت کا نظام موجود نہ تھا- چنانچہ ایسا ہوا کہ لوگ کلمہ پڑھ کر اسلام کے دائرے میں داخل ہوگئے، لیکن تربیتی نظام نہ ہونے کی بنا پر ان کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) نہ ہوسکی- وہ مذہب کے اعتبار سے مسلم تھے، لیکن کلچر کے اعتبار سے وہ قدیم کلچرل روایات میں بدستور جیتے رہے- کثرت سے احادیث میں یہ پیشگی خبر دی گئی تھی کہ جلد ہی لوگوں کے اندر بگاڑ پیدا ہوجائے گا- اس بگاڑ کا سبب عام طورپر فتنہ کو سمجھا جاتا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کا سبب کنڈیشننگ کا معاملہ تھا، یعنی اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کے زیر اثر کام کرنا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثال کے طور پر ایک حدیث رسول مختلف کتب حدیث میں آئی ہے- یہ حدیث رسول تنبیہ (warning)کی زبان میں ہے- اُس کے الفاظ یہ ہیں: أفلا ترجعوا بعدی ضلالاً، یضرب بعضکم رقاب بعض (صحیح البخاری: 4406) یعنی آگاہ، میرے بعد تم لوگ لوٹ کر گمراہ نہ ہوجانا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیث رسول میں ترجعوا کا لفظ ہے، یعنی سابقہ حالت کی طرف لوٹ جانا- یہ سابقہ حالت وہی تھی، جس سے نکل کر وہ اسلام میں داخل ہوئے تھے، یعنی قبائلی کلچر (tribal culture) اسلام سے پہلے یہ لوگ قبائل کلچر میں جیتے تھے- قبائلی کلچر میں ہر آدمی کے پاس تلوارہوتی تھی- قبائلی کلچر میں پرامن تبادلۂ خیال (peaceful discussion) کا طریقہ رائج نہ تھا- وہ لوگ اختلاف کا حل صرف یہ سمجھتے تھے کہ لڑ کر اس کو طے کیا جائے-
مزید یہ کہ لڑائی سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا تھا- کیوں کہ ہارنے والے فریق کےاندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا تھا- اس طرح عملاً قبائلی دور مسلسل جنگ (chain war) کا دور بن گیا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تم لوگوں کے اندر فطری طورپر اختلاف پیداہوں گے، مگر اس کو پرامن گفتگو کے ذریعہ حل کرنا، ایسا ہرگز نہ کرنا کہ قبائلی کنڈیشننگ (tribal conditioning) کی بنا پر اختلاف کو عذر بنا کر دوبارہ تم آپس میں لڑنا شروع کردو-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاریخ بتاتی ہےکہ اہلِ ایمان کی کنڈیشننگ باقی رہی، کیوں کہ اس زمانہ میں اس کی ڈی کنڈیشننگ کا کوئی نظام موجود نہ تھا- چنانچہ نہ صرف باہمی جنگ بلکہ ہر اعتبار سے قدیم روایات مسلمانوں کے اندر واپس آگئیں-
قدیم روایات کی یہ واپسی ان مسلمانوں کے ذریعہ ہوئی، جن کا حال یہ تھا کہ اقرار کلمہ کے اعتبار سے وہ مسلمان ہو کر مسلم سماج میں داخل ہوچکے تھے، لیکن کنڈیشننگ کی بنا پر ان کا مائنڈسیٹ یا قرآن کے الفاظ میں شاکلہ ( 17:24) اب بھی وہی تھا، جو قبل اسلام زمانے میں ان کے اندر بنا تھا- یہ معاملہ صرف عرب کے نومسلموں کا نہ تھا، بلکہ ان تمام نومسلموں کا تھا، جو بعد کے زمانے میں مختلف ملکوں میں بڑی تعداد میں اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے رہے-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ماضی کی طرف رجوع (return to past) کا یہ معاملہ مختلف اعتبار سے پیش آیا- مثلاً اسی بنا پر ایسا ہوا کہ خلفاء اربعہ کے بعد مسلمانوں میں خاندانی سلطنت (dynasty) کا دور آگیا، جو پھر کبھی ختم نہ ہوا- اسی طرح اسلامی عبادت مکمل طورپر مبنی بر فارم(form based) بن گئی، اسی طرح یہ ہوا کہ مسلم تاریخ سیاسی پیٹرن (political pattern) پر لکھی جانے لگی، وغیرہ-
اس معاملہ کی سب سے زیادہ غیر مطلوب مثال وہ ہے جو مذکورہ حدیث کے مطابق جنگ وتشدد کی صورت میں پیش آئی- مسلمانوں کے اندر بعد کے زمانے میں جنگ وتشدد کا جو سلسلہ شروع ہوا اور جو آج تک جاری ہے، وہ دراصل اسی کنڈیشننگ کی بنا پر ہے- یہ معاملہ ایک لفظ میں جہاد کے نام پر قدیم قبائلی کلچر کی واپسی کا معاملہ ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Jihad or expansion of tribal culture.