رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اسوہ حضرت عائشہ نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: وما انتقم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم لنفسہ إلا أن تنتہک حرمة اللہ، فینتقم للہ بہا- (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3560) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا - البتہ اگر خدائی حرمت کو پامال کیا جاتا تو آپ اللہ کے لیے اس کا انتقام لیتے تھے-
اِس روایت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت معلوم ہوتی ہے اور وہ ہے ذات اور مشن میں فرق کرنا- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ اگر کوئی شخص ایسی بات کہتا جس کاتعلق آپ کی ذات سے ہو تو آپ اس کو نظر انداز فرماتے تھے، لیکن اگر کوئی ایسی بات کہی جائے جس کا تعلق آپ کے پیغمبرانہ مشن سے ہو تو آپ شدت کے ساتھ اُس کا نوٹس لیتے تھے، اور یہ کوشش فرماتے تھےکہ اس کی وجہ سے آپ کے مشن پر کوئی برا اثر نہ پڑے-
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مخالفین ایک ایسی بات کہتے ہیں جو بظاہر داعی کے بارے میں ہوتی ہے، لیکن اپنے اثرات کے اعتبار سے اس کی زد داعی کے مشن پر پڑتی ہے- ایسے موقع پر داعی خاموش نہیں رہتا، بلکہ پرامن انداز میں وہ اس کا دفعیہ کرتاہے، تاکہ مشن کو نقصان سے بچایا جاسکے-
مشن ایک اجتماعی ظاہرہ ہے، اور ذات کا معاملہ ایک انفرادی معاملہ - افراد کے مجموعے سے مشن وجود میں آتاہے، لیکن حکمت کا تقاضا ہے کہ مشن سے وابستہ حضرات، اِس فرق کو سمجھیں- وہ اپنی ذات کو مشن کے تحت سمجھیں، نہ کہ مشن کو اپنی ذات کے تحت- جس مشن کے افراد اِس فرق کو ملحوظ نہ رکھیں، وہ مشن کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر رہیں گے- اِس کے نتیجہ میں وہ اپنی ذات کا بھی نقصان کریںگے، اور مشن کا نقصان بھی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔