قرآن کی سورہ الحج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰى رَبِّکَ(22:67) یعنی وہ ہر گز اِس امر میں تم سے نزاع نہ کریں اور اُنھیں اپنے رب کی طرف بلاؤ- اِس آیت میں دعوت الی اللہ کا اسلوب بتایا گیاہے- وہ یہ کہ نزاعی امور کو نظر انداز کرتے ہوئے لوگوں کو ایک اللہ کی طرف بلاؤ- دعوت الی اللہ کے مسئلے کو ہرگز نزاع کا مسئلہ نہ بننے دو-
دوسروں کو خطاب کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ نزاعی امور (controversial points) کو موضوع کلام بنایا جائے- مثلاً سیاسی اور سماجی حقوق کو لے کر تحریک چلائی جائے- یہ خدا کے نزدیک ایک غیر مطلوب طریقہ ہے- یہ طریقِ کار احتجاج سے شروع ہوتا ہے، اور آخر کار تشدد تک پہنچ جاتا ہے- اِس طریقِ کار کا کوئی مثبت فائدہ نہیں-
اِس کے برعکس جب انسان کی فطرت کو ایڈریس کیا جائے تو وہ تمام تر غیر نزاعی بنیاد پر انسان کو مخاطب کرنا ہوتا ہے- ایسی حالت میں آدمی مجبور ہوتاہے کہ وہ دعوت کو خود اپنی فطرت کی آواز سمجھے، اور اُس پر کھلے دل کے ساتھ غور کرے- یہی وہ فطری طریقہ ہے کہ جس کو قرآن میں دوسرے مقام پر وَقُلْ لَّھُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا (4:63)کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی لوگوں کو ایسے انداز میں خطاب کرو جو اُن کی فطرت کو ایڈریس کرنے والا ہو، جو اُن کو خود اپنی فطرت کی آواز معلوم ہو، جس کو وہ خود اپنی بات سمجھ کر قبول کرلیں-
اجتماعی زندگی میں نزاع کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس سے صرف مسائل میں اضافہ ہوگا- نزاع ہمیشہ نفرت اور تشدد کا باعث بنتا ہے- نزاع کا طریقہ کبھی کسی خیر کا سبب نہیں بنتا- یہ بات جس طرح دوسرے پہلوؤں سے صحیح ہے، اسی طرح وہ دعوت کے پہلو سے بھی درست ہے- دعوت کے مواقع صرف اس وقت کھلتے ہیں جب کہ نزاع کی صورت حال کو یک طرفہ طورپر ختم کردیا جائے- اس دنیا میں نزاع کا خاتمہ دعوت کا آغاز ہے- نزاع اور دعوت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔