قرآن کی سورہ آل عمران کا آخری رکوع (190-200) کا مطالعہ کیجئے تو ایک انسان کی ایمانی زندگی کے 10 مراحل سامنے آتے ہیں- یہ 10 مراحل بالترتیب حسب ذیل ہیں:
1- اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ — عقل کو استعمال کرتے ہوئے آیات تخلیق میں مسلسل غوروفکر (continuous contemplation) کی زندگی گزارنا-
2- رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا — حقیقت کی شعور ی دریافت (discovery) ، اس دریافت کے مطابق اس کا درست رسپانس (right response) دینا-
3- وقت کے منادئ ایمان کو پہچاننا، اس کا بھر پور ساتھ دینا، تمام فکری حجابات (intellectual conditioning)کو توڑ کر-
4- رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ — تاریخ میں بننے والے سچے انسانوں کی فہرست میں شامل ہونا، ان کے ساتھ حسن رفاقت کا متمنی ہونا-
5- الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا — دریافت کردہ سچائی کے ساتھ مکمل شرکت(total involvement)، زندگی کے سابق پیٹرن کو چھوڑ کر نیا پیٹرن اختیار کرنا-
6- وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ — غیر مصالحانہ انداز (uncompromising stand) اختیار کرنا، کسی چیز کو عذر (excuse)نہ بنانا-
7- وَاُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ — ایمانی زندگی کے لئے ہر قیمت (price) دینے کے لئے تیار رہنا، قربانی (sacrifice) کی حد تک قائم رہنا-
8- وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا — ایمانی مشن کے لئے سنجیدہ جدوجہد (sincere struggle) کرنا، اس راہ میں اپنی آخری کوشش صرف کردینا-
9- وَلَاُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ — جنت کی بشارت، جنت کے حصول کو اپنا واحد مرکز توجہ (sole concern) بنا لینا-
10- اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا — کامل صبر کا مزاج پیدا ہوجانا- ہر ڈسٹریکشن (distraction) سے بچتے ہوئے ایمانی سفر کی منزل طے کرنا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔