قرآن کی سورہ التین میں تخلیقِ انسانی کے معاملے کو ان الفاظ میں بیان کیاگیاہے:وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ (95:1-8) یعنی قسم ہے تین کی اور زیتون کی۔اور طورِسینا کی۔ اور اِس امن والے شہر کی۔ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ لیکن جولوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ تو اب کیا ہے جس سے تم بدلہ ملنے کو جھٹلاتے ہو۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں۔
قرآن کی اس سورہ میں احسن تقویم سے مراد یہ ہے کہ انسان کو نہایت اعلیٰ ذوق (high taste) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے- انسان کے اندر جو احساس لذت (sense of enjoyment) ہے، وہ کسی بھی دوسری مخلوق میں نہیں، نہ جمادات میں، نہ نباتات میں، نہ حیوانات میں-
اسفل سافلین میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے تخلیقی ساخت کے اعتبارسے اعلیٰ تسکین (satisfaction) کا طالب ہے- لیکن انسان کو اس دنیا میں کوئی بھی چیز اس کی طلب کے مطابق نہیں ملتی- اس دنیا میں انسان کو مسلسل طورپر عدم تشفی (unfulfillment)کی حالت میں جینا پڑتاہے- گویا کہ انسان ایک ایسا طالب ہے جس کا مطلوب اس کو حاصل نہیں-خدا کے احسن الخالقین ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ یقیناً احکم الحاکمین بھی ہے- اس پہلو پر غور کرنے سے اس معاملے کی حکمت معلوم ہوتی ہے- وہ یہ کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اس فرق کو سمجھے- وہ اس تخلیقی حکمت کو دریافت کرے، اور پھر اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے- جو آدمی اس معرفت کا ثبوت دے، اس کے لئے آخرت کی ابدی دنیا میں اجر غیر ممنون (unending reward) مقدر کیا گیاہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔