Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala February 2013
Al-Risala February 2013

سوال وجواب

Urdu · 4 min read

آپ نے ’’دابہ‘‘ سے متعلق مختلف رائیں دی ہیں- مثلاً تذکیر القرآن میں دابہ سے آپ نے ’’غیر انسانی مخلوق‘‘ مراد لیا ہے- الرسالہ جون 2007 کے شمارہ میں آپ نے دابہ سے ملٹی میڈیا مراد لیا ہے- الرسالہ مئی2010 میں آپ نے دابہ سے ’’ایک انسان‘‘مراد لیا ہے- الرسالہ (جنوری 2013) میں آپ نے دابہ سے کشتی نوح مراد لیا ہے-بر اہِ کرم، اس سوال کی وضاحت فرمائیں- (محمد عبد اللہ، کلکتہ)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دابہ کے بارے میں اِس سے پہلے میں نے جو کچھ لکھا، وہ بھی قیاس پر مبنی تھا اور الرسالہ جنوری 2013 میں جو بات آپ نے پڑھی، وہ بھی قیاس پر مبنی ہے- تاہم الرسالہ جنوری 2013 میں دابہ کے متعلق جو رائے میں نے دی ہے، وہی میرا آخری قیاس ہے- پہلے قیاس کو اب میں اپنے فکری سفر کا ایک تاریخی حصہ سمجھتاہوں- اِس طرح کا معاملہ صرف میرےساتھ خاص نہیں، اہلِ علم کے ساتھ ہمیشہ اِس طرح کا معاملہ پیش آتا رہاہے-

میں 1981 سے الرسالہ کا مطالعہ کررہا ہوں- الحمد للہ اِس دوران میں نے خود بھی الرسالہ سے ذاتی طورپر فائدہ اٹھایا ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے کی جانب متوجہ کیا ہے- ایک چھوٹی سی لائبریری قائم کرکے الرسالہ مشن کالٹریچر منگوا کر پڑھے لکھے لوگوں کو مطالعہ کے لئے فراہم کرتا ہوں- الرسالہ کے مطالعہ سے میں نے جو باتیں سیکھی ہیں، وہ مختصر طورپردرج ذیل ہیں-

(1) مثبت سوچ اور مثبت پہلو کامیابی کا راز ہے اور منفی سوچ اور منفی طرز عمل ہلاکت وبربادی کا راستہ ہے- (2) انسان کو حقیقت پسند ہونا چاہئے- حقیقت پسندی زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرتی ہے- (3) انسان کو امن پسند ہونا چاہئے- (4)آپ نے نئی نسل کی تربیت کے سلسلے میں جو کچھ لکھا ہے، وہ اِس پُرفتن دور میں مثبت سوچ رکھنے والے لوگوں کے لئے ایک قیمتی سرمایہ ہے- (5) آپ نے موجودہ دور میں مایوسی کے شکار نوجوانوں کو زندگی کا جو مثبت پیغام دیا ہے، وہ بہت قیمتی ہے- اگر آج کل کے نوجوان آپ کی اِن تحریروں کی رہنمائی میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کامیابی انھیں حاصل نہ ہو- (6) آپ نے خاص طورپر خواتین کو سادگی اور قناعت پسندی اختیار کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے، یہ وقت کی ضرورت ہے- فیشن پرستی اور صارفیت (consumerism)کے سیلاب میں بہنے والی خواتین اگر اِن باتوں کی طرف متوجہ ہوں تو سماج سے فتنہ وفساد کا خاتمہ ہوسکتا ہے- (نثار اختر، ابوالکلام آزاد لائبریری، دربھنگہ، بہار)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ماہ نامہ الرسالہ کے بارے میں آپ کا تاثر قابلِ قدر ہے- اللہ تعالی مزید ترقی عطا فرمائے- میرے تجربے کے مطابق، الرسالہ کے قاری (readers) تین قسم کے ہیں:

1- ایک قسم اُن لوگوں کی ہے جو الرسالہ کو صرف ادب یا معلومات کے لیے پڑھتے ہیں- اُن کو الرسالہ میں ایک ادبی چاشنی ملتی ہے یا الرسالہ سے اُن کو نئی نئی معلومات حاصل ہوتی ہیں، اِس لیے وہ دلچسپی کے ساتھ الرسالہ کو پڑھتے ہیں- یہ وہ لوگ ہیں جو الرسالہ کو محض انٹرسٹ ریڈنگ (interest reading) کے ایک آئٹم کے طورپر لیتے ہیں- ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ نہ الرسالہ کو جانتے ہیں اور نہ خود اپنے آپ کو، حتی کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ بحیثیت انسان ان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ کیا ہے- ایسے لوگ ہمارے نزدیک، الرسالہ کے قاری نہیں ہیں- اُن کو الرسالہ سے وقتی تفریح کے سوا کچھ اور ملنے والا نہیں-

2- الرسالہ کے قاریوںکی دوسری قسم وہ ہے جو الرسالہ سے وہ چیز لیتے ہیں جس کو ’’رازِ حیات‘‘ کہاجاسکتا ہے، یعنی دنیا میں زندگی گزارنے کا تعمیری طریقہ- ایسے لوگ الرسالہ کے قاری ہیں، مگر وہ اس کے قاری نہیں، یعنی انھوں نے الرسالہ سے صرف اس کا قِشر پایا، مگر انھوں نے الرسالہ کا مغز نہیں پایا-انھوں نے بطور خود جو عملی زندگی اختیار کررکھی ہے، اُس کے حق میں انھیں الرسالہ میں کچھ مفید مواد مل جاتا ہے، اِسی کو وہ کافی سمجھتے ہیں- ایسے لوگ الرسالہ کے صرف جزئی قاری ہیں، وہ حقیقی معنوں میں الرسالہ کے قاری نہیں- ایسے کو الرسالہ کا قدر داں کہاجاسکتا ہے، لیکن ان کو الرسالہ شناس نہیںکہاجاسکتا-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

3- الرسالہ کا حقیقی قاری وہ ہے جو خالی الذہن (empty mind) ہو کر الرسالہ کو پڑھے، جو الرسالہ میں خدائی حکمت (divine wisdom) کو دریافت کرسکے- اِسی خدائی حکمت کا دوسرا نام معرفت یا ربانیت ہے- ایسے لوگوں کے لیے الرسالہ ذہنی ارتقا اور روحانی بلندی کا ذریعہ بن جائے گا، وہ الرسالہ میں وہ چیز پانے لگیں گے جس کو قرآن میں، رزقِ رب (20:131) کہاگیا ہے، الرسالہ اُن کے لیے اُن کی فطرت کی تلاش کا جواب بن جائے گا، وہ الرسالہ کے مضامین میں انسان کی ابدی سعادت کا راز دریافت کرلیں گے —— میری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو الرسالہ کا حقیقی قاری بنائے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content