← Al-Risala February 2013Al-Risala February 2013
خبر نامہ اسلامی مرکز — 220
Urdu · 23 min read
1- نئی دہلی کے انڈیا ہیبی ٹیٹ سنٹر میں 2 اکتوبر 2012 کو وینو آئی سنٹر (Venu Eye Centre) کی طرف سے آنکھوں کی صحت کے موضوع پر ایک آل انڈیا پروگرام ہوا- یہاں طلبا کے علاوہ، آنکھ کے مشہور ماہرین موجود تھے- سی پی ایس کی دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کے کچھ ممبران نے اِس میں شرکت کی اور حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا-واضح ہو کہ انڈیا اور انڈیا سے باہر کے تمام ممبران دعوتی میٹریل بطور خود خرید کر لوگوں تک پہنچاتے ہیں-
2- فرینکفرٹ (جرمنی) میں 14-10 اکتوبر 2012 کے دوران ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) نے اِس میں شرکت کی- دوسری کتابوں کے علاوہ، جرمن زبان میں بھی اِس موقع پر دوکتابیں تیار کی گئی تھیں — اسلام کیا ہے (Was Bedeutet Islam) اور قرآن کا پاکٹ سائز ترجمہ(Der Koran)-اِس ترجمے میں صدر اسلامی مرکز کا انٹروڈکشن شامل تھا- لوگوں نے اِس کو شوق سے لیا اور اپنے تاثرات کا اظہار کیا- چند تاثرات حسب ذیل ہیں:
“I lived in Dubai for 15 years, but I never saw Quran there.”
“I was impressed by the peaceful meaning of Jihad in the Introduction of the Quran. It is better to read this original sources, rather than knowing from the media”.
3- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف امریکا میں ایک متنازع فلم بنی جس کے بعد برمنگھم کے مسلمانوں نے ایک میٹنگ کی- اس میٹنگ میں مقامی مسلمانوں نے یہ طے کیا کہ وہ متنازع فلم ’’انوسنس آف مسلمس‘‘ کے خلاف احتجاج کریں گے- شمشاد محمد خان صاحب (IPCI)نے کہا کہ احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں- اگر کچھ کرنا ہے تو آپ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات پر مشتمل ایک پمفلٹ تیار کرکے اُس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کریں- مقامی لوگوں نے اِس رائے کو پسند کیا- چناں چہ برطانیہ میں 5 لاکھ پمفلٹس تقسیم کئے گئے- برطانیہ کے مقامی لوگوں نے اس کو شوق سے لیا اور اِس طریقے کو بہت زیادہ پسند کیا گیا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4- سہارن پور (یوپی) میں 13 اکتوبر 2012 کو کئی پروگرام ہوئے — وید مندر میں آریہ ست سنگ کا پروگرام، جس میں بڑی تعداد میں مقامی اور غیر مقامی ہندو سوامی اور تعلیم یافتہ حضرات نے شرکت کی- ہوٹل ’’ساگر‘‘ میں شادی کی تقریب، سرسید کا یومِ پیدائش- اِن تمام موقعوں پر لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیاگیا- نیز سہیل جویلرس کے شو روم میں قرآن اور دعوتی میٹریل رکھاگیا، تاکہ وہ شو روم میں آنے والے لوگوں کو دیاجاسکے- اِسی طرح حلیمہ اسکول اور ڈفنس کالونی میں سہارن پور کے ساتھیوں کی طرف سے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی بروشر دئے گئے-
5- نیشنل میڈیکل کالج (سہارن پور) کی طرف سے روزنامہ راشٹریہ سہارا ، اردو میں 17 اکتوبر 2012 کو کالج کی سرگرمیوں پر مشتمل اخبار کے ایک پورے صفحہ (12) پر مشتمل اشتہار دیاگیا- اشتہار کے آخر میں کالج کے انتظامیہ کی طرف سے ایک نوٹ حسب ذیل الفاظ میں شامل کیاگیا تھا — 25 اکتوبر 2012 تک دعوتی کام کرنے والے حضرات کالج سے اردو، ہندی اور انگریزی ترجمہ قرآن مفت حاصل کرسکتے ہیں-
6- سہارن پور کے جے وی جین ڈگری کالج میں 21 اکتوبر 2012کو نوراتری کے موقع پر ہندی روزنامہ ’’دینک جاگرن‘‘ کی طرف سے ایک بڑا پروگرام کیاگیا- اِس پروگرام میں تقریباً 5 ہزار لوگوں نے شرکت کی- اِس پروگرام میں مقامی لوگوں کے علاوہ، اطرف کے بڑے سیاسی اور مذہبی رہنما موجود تھے- سہارن پور کے ساتھیوں نے یہاں لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی بروشر دئے- لوگوں نے اس کو شوق سے لیا-
7- نیشنل بک ٹرسٹ (NBT) کی طرف سے 17-21 اکتوبر 2012 کو علی گڑھ میںایک بک فیر ہوا- یہاں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا- اِس موقع پر لوگوں کی طرف سے قرآن کے ترجمے (اردو، انگریزی) کی اتنے بڑے پیمانے پر ڈمانڈ تھی کہ دہلی سے دوبارہ علی گڑھ بک اسٹال پر اس کو بھجوایا گیا-
8- • Hyderbad hosted one International convention on Biodiversity (CBD) that was marked by the visit of prime minister Manmohan Singh and several other scholars, academician from world over. This convention was held from 1st till 19th Oct, 2012 and is known as 11th Conference of Parties Convention on Biological Diversity. Hyderabad dawah team took this as an opportunity to reach out to people for Dawah work. We prepared one page document to be distributed in the Fair with the help of internet and Maulana's Book. We went into the Exhibition Hall and distributed it along with. The reality of Life, The Creation Plan of God , & The Quran. They welcomed us warmly. (Hyderabad Dawah team)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
9- • Maulana Wahiduddin Khan participated in the World Economic Forum on India 2012, held in Gurgaon, from 6 to 8 November. He shared his views on‘The New Collaborative Space: Future Scenarios for Civil Society, Business and Government Engagement in India.’ The Centre for Peace and Spirituality International team distributed Quran and Maulana's book, The Prophet of Peace, to the delegates.
10- • On November 18, 2012, CPS International members distributed Quran at a book launch in IIC, New Delhi. They gave Quran to personalities such as the Chief Minister of Delhi, Sheila Dikshit, the American Ambassador to India, Nancy Jo Powell, the president of the India International Centre, Soli J. Sorabjee, Member of Parliament N. K. Singh, president of the Indian Liberal Group, Meera Sanyal, Isher Judge Ahluwalia, and economist Jagdish Natwarlal Bhagwati.
11- منسٹری آف ہیومن رسورسیز (نئی دہلی) کی ایک ٹیم نے 26 اکتوبر 2012کو نیشنل میڈیکل (سہارن پور) کا دورہ کیا- اِس موقع پر منسٹری کے لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس دئے گئے- مسٹر پوکھریال نے کہا کہ مولانا وحید الدین خاں کا لٹریچر دیش میں سچ مچ شانتی پھیلا رہا ہے- انھوں نے شکریہ کے ساتھ لٹریچر کا تحفہ قبول کیا-
other sourceWords of another person or source
12- پنجاب یونی ورسٹی (بھٹنڈا) میں 27 اکتوبر سے 4 نومبر 2012 کے درمیان ایک بک فیسٹ (Book Fest) ہوا- اِس میں سی پی ایس دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کے ممبر مسٹر جنید الاسلام نے دعوتی لٹریچر پر مشتمل ایک بک اسٹال لگایا- یہاں سے بڑے پیمانے پر دعوتی کام ہوا اور لوگوں نے بہت شوق سے قرآن کا ترجمہ حاصل کیا-
13- پیس ہال (سہارن پور) میں 28 اکتوبر 2012 کو اترا کھنڈ اور ہریانہ کے حلقہ الرسالہ کے قارئین کا ایک اجتماع ہوا- اِس اجتماع میں قارئین الرسالہ کے علاوہ، تعلیم یافتہ ہندو حضرات نے شرکت کی- مثلاً سوامی پریم وکرم، سوامی امر پال، وغیرہ- اِس موقع پر سوامی امرپال نے اپنے گہرے تاثرات کا اظہار کیا- انھو ں نے ایک بات یہ کہی کہ اب میں نے آریہ سماج کا منچ چھوڑ دیاہے- اب میں مولانا وحید الدین خاں کے لٹریچر کا ادّھین (مطالعہ) کررہا ہوں- اِس کے علاوہ، آج ہوٹل رائل ریزیڈنسی میں نکاح کی ایک تقریب تھی- یہاں لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی بروشر دیا گیا- خاص طورپر شادی شدہ جوڑے کو ’’خاندانی زندگی‘‘ اور ’’عورت معمارِ انسانیت‘‘ کا ایک ایک نسخہ دیاگیا-
14- شارجہ (عرب امارات) میں 7-17 نومبر 2012 کو ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- اس کے بعد 17-20 اکتوبر 2012 کو استانبول (ترکی) میں ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- گڈ ورڈبکس (نئی دہلی) نے اِن دونوں بک فیر میں شرکت کی- اِس دوران ایک ترک پبلشر سے تذکیر القرآن ا ور صدر اسلامی مرکز کی دوسری کتابوں کے ترکی ترجمہ اوراشاعت کی بات ہوئی- نیز ترکی کے بڑے ہوٹلوں میں قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھوانے کا پروگرام طے کیاگیا-
15- تھروونانتھن پورم (کیرلا) کے کناتکنو پیلیس کیمپس میں 30 اکتوبر سے 5 نومبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا-اِس بک فیر میں گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا- اسٹال کا انتظام مسٹر ممتاز نے سنبھالا-
16- یکم نومبر 2012 کو پھلواری گارڈن (سہارن پور) میں ٹیم کی طرف سے لوگوں کو دعوتی میٹریل دیاگیا-
17- لکھنؤ کے سینٹینیل کالج (قیصر باغ) میں 2 نومبر سے 11 نومبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا- اِس میں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا- یہ اسٹا ل بہت کامیاب رہا- اسٹال کا انتظام مسٹر محمد فرقان نے سنبھالا-
18- پونہ (مہاراشٹر) کے گنیش کلا کریڈا منچ میں7نومبرسے 11نومبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا-اس میں گڈورڈ بکس نے اپنا اسٹال لگایا- اسٹال کا انتظام مسٹر محمد فرقان نے سنبھالا-
19 - علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں 11-12 نومبر 2012 کو کئی پروگرام ہوئے— شعبہ دینیات کی دعوت پر اقرا اکیڈمی، آزاد پبلک اسکول، نیز ابن سینا اکیڈمی کے پروگراموں میں سہارن پورٹیم ممبران نے شرکت کی اور وہاں انٹریکشن کے دوران لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا- اِسی طرح ٹیم کے ممبران نے ڈاکٹر وسیم رانا کی دعوت پر بلند شہر کا سفر کیا- اِس موقع پر دوسرے پروگراموں کے علاوہ، ڈاکٹر رانا کے تحت چلائے جارہے انگلش میڈیم اسکول میں ایک پروگرام ہوا- اِس موقع پر مقامی حضرات اور طلبا کو دعوتی لٹریچر دیاگیا-
20- الٰہ آباد (یوپی) کے جی جی آئی سی گراؤنڈ (سول لائن) میں 23نومبر سے 2 دسمبر 2012کے درمیان ایک بک فیر ہوا- اس میں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا- یہاں قرآن کے ہندی اور انگریزی ترجمے کی اتنی زیادہ ڈمانڈ تھی کہ دہلی سے دوبارہ اس کو الٰہ آباد بھیجا گیا-
21- جے پور (راجستھان) کے امبیڈکر سرکل گراؤنڈ میں 24 نومبر سے 2 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیرہوا- اِس میں دعوہ فیلڈ ٹیم (سی پی ایس) کے ممبران (مسٹر تمکین قریشی اور خضر اسلام) نے ذاتی انتظام کے تحت ایک بک اسٹال لگایا- کافی لوگوں نے بک اسٹال پر وزٹ کرکے یہاں سے دعوتی لٹریچر حاصل کیا-
22- آئی ایم اے ہال (سہارن پور) میں 27 نومبر 2012 کو سوامی وویکانند کے 150 ویں یومِ پیدائش کے موضوع پر ایک پروگرام ہوا- اس کی دعوت پر ٹیم کے ممبران نے پروگرام میں شرکت کی اور حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا-
23- جمشید پور (جھارکھنڈ) میں ٹیگور سوسائٹی کی طرف سے 23 نومبرسے 2 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا- یہاںجمشید پور کی الرسالہ ٹیم کے ممبران نے ایک بک اسٹال لگایا-یہاں سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر حاصل کیا- زائرین کو اردو، ہندی اور انگریزی میں چھپے ہوئے دعوتی بروشر بطور گفٹ دئے گئے-
24- سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے ہال میں 1-2 دسمبر 2012 کو ایک اجتماع ہوا- یہ کشمیر دعوہ میٹ کا اجتماع تھا- اِس میں الرسالہ مشن سے وابستہ کشمیر کے 50 لوگوں نے شرکت کی- یہ کشمیر کے نمائندہ افراد کا ایک اجتماع تھا- اِس اجتماع میں علما اور اعلی تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ موجود تھے- یہ اجتماع دعوتی اور تربیتی موضوع پر تھا- اِس موقع پر صدر اسلامی مرکز کے 4 خطاب ہوئے- اِس خطاب کا ویڈیو سی پی ایس کے ویب سائٹ پر موجود ہے- اِس موقع پر کشمیری ٹیم کے متعدد لوگوں نے الرسالہ مشن سے متعلق اپنے تاثرات بیان کیے- یہاں اِس سلسلے کے چند تاثرات نقل کیے جاتے ہیں:
— آپ سب الرسالہ مشن کے ساتھی ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے جو اسلام رسول اللہﷺ سے اخذ کیا ہے، اس کے صرف تین نقطے ہیں۔ ایک ہےتوحید کی اعلیٰ معرفت، دوسرا ہے فکر آخرت اور تیسرا ہے رسول اللہ ﷺ کا سچا اتباع۔ یہی الرسالہ مشن کا نصب العین ہے۔ اس لئے اس میں ذرا بھی شبہ نہیں ہے کہ الرسالہ مشن موجودہ دور میں رسول اور اصحاب رسول کی تبعیت میں چلنے والا واحد دعوتی مشن ہے ۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق، اس مشن کا ساتھ دیں۔ یہ ایک بے حد سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس معاملہ میں خدا کی رضا حاصل کرنے کا کوئی تیسرا راستہ نہیں ، کیوں کہ خدا مسلمانوں کو’’ شہادت علی الناس‘‘ کے مقام پر دیکھنا چاہتا ہے-کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الرسالہ مسئلہ کشمیر سے انکار کرتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ لوگ جب قومی اور وطنی ذہن سے دیکھتے ہیں تو انھیں مسئلہ کشمیر نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ بحیثیت داعی حق خدا کے تخلیقی منصوبہ کی روشنی میں دیکھیں تو انھیں صرف مسئلہ آخرت دکھائی دے گا جو کہ ہر انسان کا اصل مسئلہ ہے ۔ الرسالہ جیسے بے آمیز مشن کو قبول کرنا ہمیشہ انسانوں کے لئے مشکل ترین کام رہا ہے، کیوںکہ اس راہ میں ہمیشہ انسانوں کی نفس پرستی، دنیا طلبی اور شیطان کی فریب کاریاں حائل ہوجاتی ہیں۔ موجودہ دور میں الرسالہ مشن کو تاریخ میں سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ،کیوںکہ اس کی زد ہر خود ساختہ اور بناوٹی اسلام پر پڑتی تھی۔ الرسالہ مشن نے اسلام پر پڑے ہوئے مصنوعی پردوں کو ہٹا کر اس کو اس کی اصل اور ابتدائی صورت میں پیش کیا۔ اس قسم کے مشن کا ساتھ دینے والے وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو زندہ فطرت والے ہوں، جو دلائل کی عظمت کو محسوس کرتے ہوں اور جو سچائی کی تلاش اور اس کے استقبال کے انتظار میں رہتے ہوں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی تعداد ہمیشہ بہت کم ہوتی ہے۔ لیکن اسی قسم کی نادر روحیں انسانیت کا حاصل ہیں۔ اُن کی قدر و قیمت خدا اور اس کے فرشتوں کے سوا کسی کو معلوم نہیں ۔ میں آپ کی خدمت میں مولانا وحید الدین خاں کے دو تاثرات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم الرسالہ مشن کے ساتھی خود کو دیکھ سکتے ہیں۔اپنی ڈائری میں مولانا نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’دو احساسات ہروقت غم کا پہاڑ بن کر میرے اوپر چھائے رہتے ہیں۔ ایک دعوتِ دین اور اصلاحِ امت کی ذمہ دار ی، دوسرے آخرت کی جواب دہی کامسئلہ —ان دو غموں کے نیچے میری شخصیت گویا کچل کر رہ گئی ہے۔ کتنا جینے کی ضرورت ہے اور حال یہ ہے کہ ایک لمحہ بھی جینے کی طاقت نہیں ۔ اِسی طرح آخرت کی دنیا میں لازمی طورپر داخل ہونا ہے اور آخرت کی دنیا میں داخل ہونے کی ذرابھی ہمت نہیں ‘‘- اسی طرح اپریل 2000میں سہارن پور کے ایک سفر کے دوران ایک صاحب نے مولانا سے کہا کہ میں آپ کی تحریریں برابر پڑھتا رہاہوں اور ان کو پسند کرتا ہو ں، مگر سوال یہ ہے کہ آپ کے بعد کون ؟ مولانا نے جواب میں کہا کہ اکثر لوگ اس طرح کے سوال کرتے ہیں، مگر میں تو یہ سوچتا ہوں کہ میری موجودگی میں کون؟میری دعوتی جدوجہد تقریباً پچاس سال کی مدت تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس راہ میں ،میں نے اپنا خون خشک کیا، میری شخصیت ویران ہوگئی، میرے دن اور رات کا سکون چھن گیا، مگر اب بھی ہر طرف وہی حال نظر آتا ہے جس کی مثال انجیل میں ان الفاظ میں دی گئی ہے کہ — ہم نے بانسری بجائی، مگر تم نے رقص نہیں کیا،ہم نے ماتم کیا، مگر تم نہیں روئے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
محترم ساتھیو،الرسالہ کا دعوتی مشن ہماری صلاحیتوں اور اثاثوں کا بہترین مصرف ہے۔ اسی سے ہم اپنے خالق کی رضا اور خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں من أنصاری إلی اللہ کے جواب میں نحن أنصاراللہ کہنے کی سچی توفیق عطا فرمائے۔ (نذیر الاسلام ،پلوامہ، کشمیر)
— مولانا محترم، بنا تعارف آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی توفیق بر اہِ راست اللہ تعالی نے نصیب فرمائی- اِس سعادت کے لیے اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں، وہ کم ہے- بندہ تقریباً 35 سال سے حصول معرفت الٰہی کے لیےمتجسس تھا- اِس کے لیے بے شمار کتب کا مطالعہ کیا، لیکن تسکینِ قلب حاصل نہ ہوئی- اِس تلاش میں میں ناکام رہا اور امید چھوڑ بیٹھا، لیکن قلب میں تڑپ موجود تھی- آخر کار اللہ نے مجھ پر رحم فرمادیا اور مورخہ 30 مارچ 2012بروز جمعہ جب میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے رام بن بازار (کشمیر)کے قریب کے راستے سے گزر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ اُس راستے میں دور تک کچھ چھپے ہوئے ورق کے پھٹے ہوئے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں اور لوگ اُن کے اوپر سے چل رہے ہیں- جب میں قریب پہنچا تو ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر ‘God’ لکھا ہوا میں نے پڑھا- میں بیٹھ گیا اور اپنے رب کے نام کے ساتھ شامل عبارت کے ورق کو پھاڑ کر پھینکنے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے میں نے اُن تمام چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو اکھٹا کرکے اپنی جیب میں رکھ لیا- بعد فراغت نماز جمعہ، اپنے گھر جاکر میں نے اُن تمام ٹکڑوں کو اپنی اپنی جگہ جوڑنے کی کوشش کی- بہت محنت اور دقت کے بعد آخرکار میں اس پورے ورق کو مکمل طورپر جوڑنے میں کامیاب ہوگیا اوراب اسے پڑھنا شروع کیا- تمام عبارت انگریزی زبان میں تھی اور مضمون کا عنوان یہ تھا: ‘Creation Plan of God’ -تمام عبارت پڑھنے اور سمجھنے کے بعد میری روح میں انقلاب جیسی کیفیت محسوس ہوئی اور میں تڑپ گیا کہ شایدمجھے میری منزل مل گئی- لیکن اس میں مضمون کے مصنف کے بارے میں کوئی جانکاری نہ تھی اور نہ ہی اُن کی کسی کتاب کے بارے میں مجھ کو معلومات حاصل تھی- آخر میں CPS International کا فون نمبر اور پتہ درج تھا- میں نے سی پی ایس (نئی دہلی) کو فون کیا - وہاں سے محترم حمید اللہ حمید بیروہ (کشمیر) سے رابطہ کرنے کی ہدایت ہوئی- میں نے محترم حمید اللہ حمید سے فون پر رابطہ کیا جن کے ساتھ پہلے سے میرا کوئی تعارف نہ تھا- انھوںنے مجھے آپ کی تصانیف— کتاب معرفت، تذکیر القرآن اور ماہ نامہ الر سالہ کی کاپیاں بھیجیں- مطالعے سے مجھے معرفت کیا ہے، اس کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی اور معرفت الہی کے درجے تک پہنچنے کا راستہ معلوم ہوا- اُسی دن سی میری روحانی کیفیت میں مکمل تبدیلی آگئی اور آج میں وہ انسان نہیں ہوں جو میں اب سےپہلے تھا- مجھے اپنی 62 سال کی عمر کا وقت بے کار ضائع ہوجانے کا احساس ہوا اور میں اِس فکر میں ڈوب گیا کہ اب میری مغفرت کیسے ہوگی، اب کیا کروں- لیکن آپ کی کتب اور الرسالہ کے مطالعے سے اُمید ہوگئی کہ ابھی جو کچھ عمر کا حصہ باقی ہے، اس میں دعوت دین کا کام کرنے میں لگ جاؤں، تاکہ فلاح پاسکوں- بس ارادہ کرلیا ہے اور دعوت کا کام شروع کردیا ہے- میری آپ سے گزارش ہے کہ میرے حق میں اللہ سے دعا کریں کہ میںدعوت الی اللہ کے اِس مشن میں ثابت قدم رہوں اور کامیاب ہوجاؤں- (محمد اقبال سوہل، پرلوت، ضلع رام بَن، جموں وکشمیر)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
— • I attended two days Kashmir Dawah Meet held in New Delhi. Infact, I experienced anda learnt a lot from da’ees of islam. The lectures of Maulana Wahiduddin Khan and the tips given and experiences shared especially with Dawah Field Team, CPS (DFT) boosted me a lot and gave enthusiasm to work for dawah in future. Infact, this annual conference is of great importance for da’ees of the mission. (M Ismail Bhat, Kashmir)
— • The entire Kashmir Dawah meet was such an inspiration that I feel I am re-born with a renewed understanding of my purpose in life. I was listening to the whole program. Everyone spoke from their heart for it reached our hearts. This is a sure sign of speaking from the heart. (Fathima Sarah, Centre for peace Bangalore)
25- مسٹر جگ پال سنگھ (ایم ایل اے، سہارن پور) کے یہاں 6 دسمبر 2012 کو اور ڈاکٹر آر پی شرما کے یہاں 7 دسمبر 2012 کو ان کے بیٹے کے شادی کی تقریب تھی- اِس موقع پر اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات کو قرآن کا ترجمہ دیاگیا- مسٹر پنّا لال (لیڈر آر ایس ایس) کو قرآن کا ترجمہ دیا گیا تو انھوں نے کہا کہ قرآن مجھ کو 80 سال کی عمر میں ملا ہے- اگر پہلے مجھ کو قرآن مل گیا ہوتا تو قرآن پڑھ کر میں اسلام کے بارے میں اپنی رائے بناتا، نہ کہ مسلمانوں کو دیکھ کر- انھو ں نے کہا کہ میں بھی خدا کی اِس کتاب کو انسانوں تک پہنچانے کے پوتر (مقدس) کام میں شامل ہونا چاہتا ہوں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
26- رڑکی (اتراکھنڈ)کے سنٹرم (HTL) میں 8 دسمبر 2012 کو ایک ثقافتی پروگرام ہوا- اِس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی- اِس موقع پر جن لوگوں کو قرآن کا ترجمہ دیا گیا، اُن میں سے ایک ڈاکٹر جے پی نائر تھے- ان کی مسلم بیوی نے کہا کہ اب ہم خود بھی قرآن کا مطالعہ کریں گے اور مسٹر نائر کی فیملی کے لوگوں تک قرآن کا پیغام پہنچائیں گے- قرآن نے ہمارے لیے دعوت کے کام کو بہت آسان بنا دیا ہے-
27- کوچی (کیرلا) کے ارناکلاتھپن گراؤنڈ میں یکم دسمبر سے 10 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا- اِس میں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے حصہ لیا- اسٹال کا انتظام مسٹر ممتاز نے سنبھالا-
28- حیدرآباد کے گلوبل پیس آڈی ٹوریم میں 17-21 دسمبر 2012 کو حسبِ ذیل موضوع پر ایک پروگرام ہوا:
Ist World Parliament on Spirituality
اِس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے دہلی سے انگریزی زبان میں موضوع پر ایک اسپیچ دی- اِس کے علاوہ، کانفرنس کے لیے ایک پیپر (Global Spirituality Awakening)روانہ کیا گیا، جو کانفرنس کے شرکا کے درمیان تقسیم کیاگیا- یہ دونوں چیزیں سی پی ایس کے ویب سائٹ پر موجود ہیں-
29- تاج ہوٹل (سہارن پور) میں 21 دسمبر 2012 کوہندستان ٹائمس کے طرف سے ایک پروگرام ہوا- پروگرام میں مقامی انڈسٹریلسٹس اور ایجوکیشنلسٹس کے علاوہ، اعلیٰ سرکاری نمائندے موجود تھے- اس کی دعوت پر ٹیم کے ممبران نے پروگرام میں شرکت کی اور بڑے پیمانے پر حاضرین کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس دئے- لوگوں نے اس کو شوق سے لیا- تاج ہوٹل کی لائبریری میں الرسالہ مطبوعات کا ایک سیٹ بھی رکھا گیا-
30- بنگلور کے پیلیس گراؤنڈس ، مہکری سرکل (گائتری وہار) میں 14-23 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا- اس میں بنگلور کے دعوہ سنٹر کے ممبران نے ایک بک اسٹال لگایا- یہاں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے قرآن کا انگر یزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر حاصل کیا-
31- نئی دہلی کے رام لیلا گراؤنڈ میں 14-23 دسمبر 2012 کے دوران ایک نیشنل بک فیر ہوا- اِس میں سی پی ایس دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کے ممبر مسٹر جنید الاسلام نے اپنے ذاتی انتظام کے تحت ایک بک اسٹال لگایا- یہاں سے کافی لوگوں نے دعوتی لٹریچر اور قرآن کا ترجمہ حاصل کیا- دعوتی اعتبار سے یہ اسٹال بہت کامیاب ثابت ہوا-
32- نئی دہلی کے ایک پلے گروپ (Pierrot's Troupe) کی طرف سے 16 دسمبر 2012 کی شام کو شری رام سنٹر (نئی دہلی) کے آڈیٹوریم میں ایک پلے شو (لال قلعے کا آخری مشاعرہ) ہوا-دعوہ فیلڈ ٹیم کے ممبران نے یہاں حاضرین کے علاوہ، گروپ ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید عالم اور ان کے ساتھیوں خاص طورپر مسٹر ٹام آلٹر (Tom Alter) سے ملاقات کی اور ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا- گروپ کے ذمے داروں نے کہا کہ ہم کو تعجب ہے کہ آپ نے اس موقع کو اتنے اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال کیا- انھوں نے کہا کہ آئندہ جب کہیں ہمارا پلے ہوگا، ہم آپ کو انفارم کردیں گے- آپ وہاں آئیں اور لوگوں کو قرآن کا پیغام پہنچائیں- اس میں آپ کو ہمارا پورا تعاون حاصل رہے گا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
33- نئی دہلی کے نہرو پارک (چانیکہ پوری) میں 23 دسمبر 2012 کو ایک پروگرام ہوا- یہ پروگرام مشہور میوزیشن پنڈت روی شنکر (وفات: 11 دسمبر 2012) کےلیے ٹری بیوٹ (tribute)کے طورپر کیاگیا- اِس میں مختلف سیاسی، سماجی اور ثقافتی شعبوں سے وابستہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی- اِس موقع پر سی پی ایس کی دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کی طرف سے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا-
34- حیدر آباد (انڈیا) کے نکلیس روڈ پر 14-25 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا- گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے اِس میں شرکت کی- بک اسٹال کا انتظام مسٹر محمد احمد خان نے سنبھالا-
35- کرسمس (25 دسمبر2012) کے موقع پر سہارن پور ٹیم کے ممبران نے وہاں کے مختلف مقامی چرچ میں جاکر لوگوں سے انٹریکشن کیا اور حاضرین اور چرچ کے فادرس کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا جس کو انھوں نے شوق سے لیا- سینٹ تھامس چرچ کے فادر مسٹر دانیال نے کہا کہ میں چرچ میں قرآن کا یہ ترجمہ بھی پڑھ کر لوگوں کو سناتا ہوں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
36- دہرادون (اتراکھنڈ) میں 26 دسمبر 2012 کو ایچ آرڈی منسٹری (نئی دہلی) کی طرف سے یوپی اور اتراکھنڈ کے ووکیشنل کالج کے ذمے داروں کی ایک میٹنگ ہوئی- اس کی دعوت پر سہارن پور ٹیم کے ممبران نے اس میں شرکت کی اور حاضرین کو بڑے پیمانے پر واٹ از اسلام (What is Islam) اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا- لوگوں نے شوق سے لیا اور اپنے تاثرات کا اظہار کیا- مثلاً مسٹر اندر جے ایس آسوال (ڈائریکٹر جن شکچھا سنستھان، دہرادون) نے کہا کہ آج میری زندگی کی تلاش کا جواب مل گیا- میں بچپن سے قرآن کو تلاش کررہا تھا- اِسی طرح مسٹر سنتوش کمار آریہ (مظفر نگر) نے کہا کہ قرآن پاکر آج میرا جیون ایشور رخی(God-oriented) ہوگیا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
37- عمّان (اردن) کے رائل اسلامک سنٹر (The Royal Islamic Strategic Studies Centre) کی طرف سے 200 صفحات پر مشتمل ایک حسب ذیل کتاب شائع ہوئی ہے:
The Muslim 500: The World's 500 Most Influencial Muslims-2012
other sourceWords of another person or source
کتاب میں اسکالرس کی کٹیگری میں صدراسلامی مرکز کا نام حسب ذیل الفاظ میں شامل ;کیا گیا ہے:
Wahiduddin Khan is an Islamic scholar who strongly advocates peace, interfaith, and coexistence. He is the author of over 200 books including a translation and commentary of the Qur’an into simple English. He is also the co-founder,along with his son, Dr. Saniyasnain Khan, of the popular publisher of children’s book – ‘Goodword’. (page 111)
38- دہلی سے انڈیا اور انڈیا کے باہر (امریکا) کے لیے صدر اسلامی مرکز کے ٹیلی فون خطاب کا سلسلہ جاری ہے- یہ خطابات سی پی ایس کے ویب سائٹ پر موجود ہیں- نیز نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا میں صدر اسلامی مرکز کے مضامین برابر شائع ہورہے ہیں- یہ مضامین سی پی ایس کے ویب سائٹ پر دیکھے جاسکتے ہیں-
39- انگریزی ترجمہ قرآن اور الرسالہ مشن سے متعلق چند تاثرات یہاں درج کیے جاتے ہیں:
— I just want to say I enjoyed reading your opening statement in Quran I got from a booth at a local festival of where I live. I plan to keep reading the Quran and learn its teachings. I'm in search of peace in my life and find Islam to be a very peaceful religion. Thank you. (Walden Corpuz, USA)
— There are some people who are regular readers of Al-Risala in the tribal areas also. These areas need the peace material very much. Al-risala copies and Maulana Sahib's books are regularly being distributed there. There are some Afghan nationals who are working here in Peshawar . (M. Salman, Pakistan)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
— Dear Maulana Wahiduddin Khan, I have read every bit of your published writings. Also, I have listened to your recorded speeches to a greate extent and I am still listening to them everyday. I would say at this point, Allah being my witness, that you have done your job of explaining the mission of Islam to us to the fullest extent. You have made it fully comprehensible to us. You have cleansed our hearts of negativity and taught us to love humanity, the supreme concern of Allah. Now it is our duty to take this message to the people all over the world. Therefore, Maulana, I and also on behalf of USA and Canadian team declare our oath of allegiance to you and to your mission that we will dedicate ourselves to spread Allah's message under Al Risala Mission until our last breath no matter what may come. May Allah and His angels be witness to this. (Khaja Kaleemuddin, Pennsylvania - USA)
unverifiedAttribution could not be verified automatically