ایک شخص کا قول ہے کہ زندگی میں کوئی موقع (chance) صرف تین بار آتا ہے، چوتھی بار نہیں — بابری مسجد کے مسئلے پر یہ قول پوری طرح صادق آتا ہے- بابری مسجد کے معاملے میں مسلمان تین موقع کھو چکے ہیں، اب چوتھا موقع اُنھیں ملنے والا نہیں-
بابری مسجد کو بے مسئلہ مسجد بنانے کا پہلا موقع وہ تھا جب کہ بابر کے گورنر میر باقی نے 1528 عیسوی میں ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کرائی- اُس مقام پر بابری مسجد سے پہلے ہندوؤںکا ایک مقدس اسٹرکچر تھا، جس کو وہ رام چبوترہ یا رام مندر کہتے تھے- میر باقی نے یہ کیا کہ رام چبوترہ کو مسجد کے صحن سے ملا کر مسجد کی تعمیر کروائی- یہ اِس معاملے میں پہلے موقع کو کھونا تھا، کیوں کہ خلیفہ عمر فاروق کے مقرر کردہ ایک اصول کے مطابق، دو عبادت خانوں کو’رمیة حجر‘ (stone's throw) کی دوری پر ہونا چاہیے، لیکن میر باقی نے اِس اصول پر عمل نہ کرکے اول دن سے بابری مسجد کو ایک نزاعی مسجد بنا دیا-
اِس معاملے میں دوسرا موقع وہ تھا جب کہ 1949 میں کچھ ہندوؤں نے بابری مسجد کے اندر تین بت رکھ دئے- اُس وقت مسلمانوں پر لازم تھا کہ وہ اِس معاملے کو عدالت تک محدود رکھیں، لیکن مسلم لیڈر اِس مسئلے کو سڑکوں پر لے آئے- اِس طرح مسلم لیڈروں نے دوسرے موقع کو کھودیا، کیوں کہ سڑک پر آنے کے بعد مسئلہ صرف مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے، وہ کبھی حل نہیں ہوتا-
تیسرا موقع وہ تھا جب کہ 1991 میں اُس وقت کی یوپی گورنمنٹ نے یہ پیش کش کی کہ مسلمان اگر مسجد کو ری لوکیٹ (re-locate) کرنے پر راضی ہوں تو وہ مسجد کے لیے مسلمانوں کی پسند کے مطابق، ایک متبادل جگہ اُن کو دینے کے لیے تیار ہے- لیکن مسلمانوں نے اِس پیش کش کو رد کرکے اس تیسرے موقع کو بھی کھودیا-
اِس کے بعد 6دسمبر 1992کو مسجد ڈھا دی گئی- اب بابری مسجد کی تعمیر ثانی کی تحریک چلانا گویا چوتھے موقع کو تلاش کرنا ہے جو کہ سرے سے ملنے والا ہی نہیں- (6 دسمبر 2012)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔