Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala February 2013
Al-Risala February 2013

کشمیر میں نئی سوچ کی ضرورت

Urdu · 4 min read

بی بی سی لندن (اردو) کے ویب سائٹ پر 18 دسمبر 2012 کی اشاعت کے تحت ایک رپورٹ آئی ہے- یہ رپورٹ جموں وکشمیر کی تحریک کے بارے میں ہے- اس کا عنوان ہے— ’’عسکری تحریک سے پُرامن جدوجہد تک‘‘-اس رپورٹ کا متعلق حصہ یہاں نقل کیا جاتاہے:

’’بھارت کے زیر ِ انتظام کشمیر میں مسلح تحریک کا آغاز کرنے والی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) نے اپنے آئین میں تبدیلی کر کے عسکریت پسندی کو اپنے عزائم سے نکال دیا ہے۔ گذشتہ بیس سال سے زائد عرصے سے جاری بھارت مخالف تحریک کے پس منظر میں اس کو جے کے ایل ایف کی طرف سے ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ تنظیم کے پاکستان کے زیر ِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا ہے کہ جے کے ایل ایف ایک عسکری تحریک تھی- اس سے اس نے خود کو ایک پرامن سیاسی تحریک میں بدلا۔ تو اس حوالے سے آئین میں یہ تبدیلی کی گئی کہ جے کے ایل ایف کے مونوگرام میں بندوق کی علامت ختم کردی گئی اور اس کی جگہ ٹہنی کی علامت شامل کردی گئی ہے۔ ڈاکٹرگیلانی نے کہا کہ اس علامت کو بدلنے کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ کشمیری پرامن حل کی طرف جانا چاہ رہے ہیں اور اس کے لیے وہ پہلا قدم اٹھا رہے ہیں، تاکہ بھارت، پاکستان اور بین الاقوامی برادری کو یہ باور کرایا جائے کہ پرامن ذرائع سے مسئلہ کشمیر کا حل نکالیں۔جے کے ایل ایف کا کہنا ہے کہ تشدد کے ذریعے مقاصد کا حصول اب دنیا کے لیے قابل قبول نہیں رہا اور اقوام عالم کا مسلسل یہ دباؤ رہا کہ بندوق چھوڑ کر پرامن ذرائع اپنائے جائیں۔وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے جے کے ایل ایف کے اہم رہنما اور سابق چیف کمانڈر محمد رفیق ڈار کہتے ہیں کہ مغرب خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ اور مشرق وسطی کے کچھ طاقتور ممالک جو مسئلہ کشمیر میں دلچسپی رکھتے تھے اور جن کا پاکستان اور بھارت سے تعلق ہے، ان کی مسلسل کوشش تھی اور اس کے علاوہ ہندوستان کے اندر ایک دانشور طبقہ، جو انسانی حقوق کا بڑاچیمپیئن ہے، اس کی بھی یہ کوشش تھی کہ امن اور پرامن ذرائع کو ایک موقع دیا جائے۔ خیال رہے کہ آزادکشمیر کی حامی تنظیم جے کے ایل ایف پہلی تنظیم ہے جس نے 31 جولائی 1988کو وادی کشمیر میں چار بم دھماکے کر کے ہندستان کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا... ‘‘ (www.bbc.co.uk/urdu/india)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

جموں وکشمیر کی تحریک 1947 کے بعد شروع ہوئی- ابتدا میں وہ پرامن انداز میں چلائی جارہی تھی- کشمیری لیڈر پرامن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے نہایت زور وشور کے ساتھ اس کو چلاتے رہے- 40 سال سے زیادہ مدت تک اِس ’’پرامن‘‘ تحریک کو ناکام طور پر جاری رکھنے کے بعد کشمیر میں نئی لیڈر شپ ابھری- انھوں نے دوسرا آپشن لیا- نئی لیڈر شپ نے 1988سے کشمیر کی تحریک کو تشدد کی بنیاد پر چلانا شروع کردیا، لیکن کشمیر کا یہ دوسرا دور بھی اپنے نتیجے کے اعتبار سے، مکمل طور پر ناکام رہا- بے حساب جانی اور مالی نقصان کے باوجود اِس دوسرے دور میں بھی یہ ہوا کہ کشمیری اپنے مطلوب مقصد کو حاصل کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہے،جب کہ اِس پرتشدد جدوجہد میں پاکستان پوری طرح ان کا مددگار بن گیا تھا-

کشمیر کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ کشمیری لیڈر دونوں میدانوں میں مکمل طورپر شکست کھا چکے ہیں، پرامن میدان میں بھی اور عسکریت کے میدان میں بھی- اب اصل مسئلہ کسی تیسرے آپشن کی تلاش کا ہے، نہ کہ ناکام عسکری طریق کار سے، ناکام پرامن طریقِ کار کی طرف دوبارہ لوٹنے کا- کشمیری لیڈروں کی مذکورہ ’’تبدیلی‘‘ خوب صورت الفاظ میں صرف ہلاکت کی توسیع ہے، اِس کے سوا اور کچھ نہیں-یہ نام نہاد تبدیلی صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ کشمیری لیڈر جس طرح پہلے دانش مندانہ سوچ سے محروم تھے، اُسی طرح اب بھی وہ دانش مندانہ سوچ سے محروم ہیں-

کشمیریوں کے لیے تیسرا قابل عمل آپشن کیا ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ ہے اسٹیٹس کوازم (statusquoism)، یعنی موجود صورتِ حال کو على حالہ قبول کرلینا اور اپنی تمام کوششوں کو تعمیر و ترقی کے کام میں لگا دینا- اب کشمیریوں کے لیے جو دانش مندانہ راستہ ہے، وہ صرف یہی ہے- یہ تیسرا ممکن راستہ ایک لفظ میں — پرامن تعمیر ہے، نہ کہ صورتِ حال کو بدلنے کے نام پر مفروضہ قسم کی پرامن جدوجہد،جو کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، نہ پر امن ہے اور نہ جدوجہد-

کشمیریوں کے لیے نیا آغاز صرف یہ ہے کہ وہ اپنے ماضی کی غلطی کا کھلا اعتراف کریں اور نئے ذہن کے ساتھ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کا منصوبہ بنائیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content