ارنسٹ شیکلٹن (Ernest Shackleton) ایک برٹش مہم جو تھا- اُس نے قطب جنوبی (Antarctica) کی دریافت کو اپنا مشن بنایا- وہ تین خطرناک مہم (expeditions) کا قائد تھا- آخری مہم جس میں 28 آدمی شریک تھے، ایک خطرناک حادثے کا شکار ہوگئی-
اُن کا جہاز سمندر میں کسی چٹان سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا- اِس کے بعد شیکلٹن اور ان کے ساتھیوں کو ایک ایسے مقام پر رہنا پڑا جہاں صرف برف کے تودے تھے، وہاںاس کے علاوہ اورکچھ نہ تھا- یہ ایک ہولناک تجربہ تھا جس کی تفصیل حسب ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے:
Endurance: Shackleton’s Incredible Voyage (1959) by Alfred Dansing.
شیکلٹن اور اس کے ساتھی 150 دن تک خالص برف کی دنیا میں رہنے کے بعد محفوظ حالت میں اپنے وطن واپس آگئے- یہ ’’معجزہ‘‘ کیسے ہوا- مصنف کے الفاظ میں، اُس کا راز صرف ایک تھا— پارٹی کے اندر یہ امید کہ ان کو جو صورتِ حال پیش آرہی ہے،وہ صرف عارضی ہے:
Underlying the optimism of the party was the confidence that their situation was only temporary.
کامیابی کا یہ فارمولا ایک عمومی فارمولا ہے- جب بھی آپ کو کوئی مصیبت پیش آئے تو آپ صرف یہ کیجئے کہ اپنے ذہن کو یہ بتائیے کہ یہ مصیبت مستقل نہیں ہے، یہ صرف وقتی اور عارضی ہے (It is all but temporary)-اِس کے بعد ہرمصیبت آپ کے لیے آسان ہوجائے گی- سفر ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر ایک کو پیش آتا ہے-
سفر میں کسی کو بھی گھر والی راحت نہیں ملتی، مگر ہر مسافر مطمئن رہتاہے، کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ ایک عارضی مدت کے بعد وہ بہر حال اپنے گھر پہنچ جائے گا-یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے- اپنی زندگی پر اِس فارمولے کو منطبق کیجئے اور پھر کبھی آپ مایوسی کا شکار نہ ہوں گے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.