مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914) نے ’’سیرت النبی‘‘ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ : ’’امام بیہقی کتاب المدخل میں ابنِ مہدی کا قول نقل کرتے ہیں: إذا روینا عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم فی الحلال والحرام والأحکام شدّدنا فی الأسانید وانتقدنا فی الرجال، وإذا روینا فی الفضائل والثواب والعقاب سہلنا فی الأسانید وتسامحنا فی الرجال (فتح المغیث، صفحہ 120)یعنی جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حلال وحرام اور احکام کے متعلق حدیث روایت کرتے ہیں تو ہم سند میں نہایت تشدد کرتے ہیں، اور راویوں کو پرکھتے ہیں- لیکن جب ہم فضائل اور ثواب اور عقاب کی حدیثیں روایت کرتے ہیں تو ہم سندوں میں سہل انگاری کرتے ہیں اور راویوں کے متعلق چشم پوشی سے کام لیتے ہیں‘‘- )مقدمہ سیرت النبی، 1/52)
تدوین حدیث کے وقت محدثین نے دو قسم کی روایتوں میں جو فرق کیا، وہ بلاشبہہ ایک اجتہادی خطا کا معاملہ تھا- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت کے مطابق، ایسا کرنا اُن کے لیے درست نہ تھا- اِس معاملے میں اصل سوال یہ نہیں تھا کہ جو روایت اُن کو حدیث رسول کے نام پر پہنچ رہی ہے، وہ اپنے متن کے اعتبار سے، مسائل سے متعلق ہے یا فضائل سے متعلق- اصل سوال یہ تھا کہ جس روایت کو پیغمبر ِخدا سے منسوب کیا جارہا ہے، وہ باعتبار انتساب درست ہے یا نہیں- اِس معاملے میں یہ ایک ثانوی بات ہے کہ حدیث میں کوئی قانونی مسئلہ بیان ہوا ہے یا کسی عمل کی فضیلت بیان ہوئی ہے- اصل سوال یہ تھا کہ پیغمبر خدا سے اس کا انتساب سنداً ثابت ہوتا ہے یا نہیں- حقیقت یہ ہے کہ اِس معاملے میں محدثین نے دو قسم کی روایتوں کے درمیان جو تفریق کی، اس کا ہرگز اُنھیں حق نہ تھا- اِس معاملے میں محدثین کی حیثیت صرف ناقل کی تھی، ان کی حیثیت جج کی نہ تھی- ابتدائی دور کے محدثین کو جاننا چاہیے تھا کہ اگر انھوں نے روایتِ حدیث میں کوئی غلطی کردی تو یہ غلطی قیامت تک باقی رہے گی، عملاً وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔