بلیز پاسکل(Blaise Pascal) ایک فرانسیسی سائنس داں تھا- وہ 1623 میں پیدا ہوا اور 1662 میں صرف 39 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوگیا- 18 سال کی عمر میں وہ خرابی صحت (poor health) کا شکار ہوگیا- علاج کے باوجود وہ پھر کبھی صحت مند نہ ہوسکا- بلیز پاسکل ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوا تھا- اپنی آخری عمر میں اس نے سائنس کو چھوڑ دیا اور مذہب (theology) کے مطالعے میں مشغول ہوگیا- پاسکل کی سوانح حیات میں اس کے بارے میں درج ہے کہ — آخری الفاظ جو پاسکل کی زبان سے نکلے، وہ یہ تھے:
Pascal’s last words were: “May God never abandon me”!
پاسکل نے جو کچھ کہا، وہ دراصل انسانی فطرت کی آواز ہے — قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: خُلِقَ الإنسانُ ضعیفاً (4: 28) یعنی انسان کمزور پیدا کیاگیا ہے-
انسان کا تخلیقی ضعف انسان کے لیے ایک رحمت ہے- اِسی ضعف کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان خدا کے مقابلے میں اپنے عجز (helplessness) کو دریافت کرتا ہے- اگر ایسا نہ ہو تو انسان اپنی حیثیتِ واقعی کی دریافت سے محروم رہ جائے-اِس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ (minus point)کا ایک پلس پوائنٹ (plus point)ہے- نادان آدمی مائنس پوائنٹ میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور دانش مند آدمی پلس پوائنٹ کو دریافت کرکے اپنی ترقی کا نیا راز پالیتا ہے-
انسان کا تخلیقی ضعف اُس کو سرکش بننے سے بچاتا ہے، وہ آدمی کے اندر تواضع (modesty) کی صفت پیدا کرتاہے، وہ آدمی کو اِس سے بچاتا ہے کہ وہ بے جا خود اعتمادی (over confidence) کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے، وہ آدمی کو انسانِ حقیقی (man cut to size) بننے میں مدد دیتا ہے، وہ انسان کو خدا فراموشی کی برائی میں مبتلا ہونے نہیں دیتا، وہ انسان کو خدا سے قریب کرنے والا ہے، وہ انسان کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے معاملات کی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کرسکے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔