اسلامی تعلیم کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامل پیغمبر ہیں- آپ کی سیرت میں انسان کی زندگی کے لیے بہترین نمونہ موجود ہے- ایک انسان اپنی زندگی کے تمام معاملات میں پیغمبراسلام سے مستند ربانی ہدایت حاصل کرسکتاہے- پیغمبر اسلام بلاشبہہ ایک رول ماڈل (role model)کی حیثیت رکھتے ہیں- اِسی کو قرآن میں اسوہ حسنہ (33:21) کہا گیا ہے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کامل اسوہ بہ اعتبار فہرست (in terms of list) نہیں ہے، بلکہ وہ بہ اعتبارِ انطباق (in terms of application) ہے- یہ حقیقت ایک حدیثِ رسول سے معلوم ہوتی ہے- اس کے مطابق،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل کو (بطور عامل) یمن کی طرف بھیجا تو آپ نے معاذ بن جبل سے پوچھا کہ جب تمھارے سامنے کوئی معاملہ آئے گا تو تم اس کا فیصلہ کس طرح کروگے- انھوںنے کہا کہ میں اللہ کی کتاب سے اس کا فیصلہ کروں گا- آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ- انھوں نے کہا کہ میں رسول اللہ کی سنت سے فیصلہ کروں گا- آپ نے فرمایا کہ اگر تم رسول اللہ کی سنت میں اور اللہ کی کتاب میں بھی نہ پاؤ- انھوں نے کہا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا(أجتہد رأئی ولا اٰلو)- رسول اللہ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے رسول کے فرستادہ کو اُس چیز کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہے-(سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 3592)
اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معاذ بن جبل کو اعتماد تھا کہ وہ سنت ِ رسول کے ذریعے تمام پیش آمدہ معاملات کا فیصلہ کرسکتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ اِس اعتبار سے نہ تھاکہ سنت بہ اعتبارِ فہرست ایک مکمل فہرست ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ معلوم فہرست پر اجتہاد کا اضافہ کرکے وہ اس کو مکمل کرسکتے ہیں- اِس روایت سے جو اصول دریافت ہوتا ہے، وہ یہ ہے — سنت پلس اجتہاد برابر ہے کامل اسوہ رسول کے:
Sunnah plus Ijtihad is equal to ‘Uswah-e-Kamilah’
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔