قرآن کی سورہ التحریم کی ایک آیت میں اہلِ ایمان کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں: یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ ۚ نُوْرُہُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَبِاَیْمَانِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۚ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (66:8) یعنی جس دن خدا، پیغمبر کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا- اُن کا نور اُن کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا- وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب، تو ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل کردے اور ہماری مغفرت فرما- بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے-
قرآن کی اِس آیت میں ’نور‘ سے مراد کوئی خارجی نور نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد خود صاحبِ ایمان کی منور شخصیت (radiant personality) ہے- اِسی طرح ’اتمامِ نور‘ سے مراد کوئی خارجی نوعیت کا اتمام نور نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ ہے جو خود صاحبِ ایمان کی اپنی شخصیت کے اندر پیش آئے گا-
اُن کا نور ان کے دائیں اور ان کے آگے دوڑ رہا ہوگا— اِس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی منور شخصیت اتنی زیادہ نمایاں ہوگی کہ وہ لوگوں کو دور سے دکھائی دے گی- سچا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کے عمل کا خارجی پہلواِس دنیا میں لوگوں کو نظر آجاتا ہے، لیکن اس کے عمل کا باطنی پہلو دکھائی نہیں دیتا-سچے اہلِ ایمان کے عمل کا یہ چھپاہوا پہلو آخرت میں عیاناً ظاہر ہوجائے گا- اِسی حقیقت کو قرآن میں، نورکےدوڑنے سے تعبیر کیاگیا ہے- اتمامِ نور کا مطلب یہ ہے کہ خدایا، جس طرح دنیا میں ہمارے عمل کا خارجی پہلو ظاہرہوا تھا، اُسی طرح تو ہمارے عمل کے داخلی پہلو کو بھی ظاہرکردے-
مثال کے طورپر قرآن میں اہلِ ایمان کے لیے آیا ہے کہ: اَلَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَا اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَةٌ (23:60)- اِس آیت میں جس مومنانہ کردار کا ذکر ہے، اُس میں دیکھنے والوں کو صرف یہ نظر آئے گا کہ اُس نے مال کا ایک حصہ کسی کو دیا، لیکن اس کے عمل کا دوسرا پہلو کہ اُس وقت اُس کا دل خوفِ خدا کی کس کیفیت سے بھرا ہوا تھا، اُس کو دنیا میں کسی دیکھنے والے نے نہیں دیکھا- آخرت میں یہ ہوگا کہ ایسا مومن اپنی شخصیت کے دونوں پہلوؤں کے ساتھ نمایاں ہوجائے گا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔