انسان سے ہمیشہ غلطیاں ہوتی ہیں۔ عربی زبان میں یہ مقولہ ہے: الإنسان مرکب من الخطأ والنسیان (انسان غلطی اور بھول کا مجموعہ ہے)۔ انگریزی زبان میں کہا جاتاہے— to err is human
ایسی حالت میں انسان کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا جواب ایک حدیثِ رسول میں ملتاہے۔ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلّ ابن آدم خطّائٌ وخیر الخطّائین التوابین (الترمذی، کتاب القیامۃ) یعنی انسان ہمیشہ غلطی کرتاہے اور بہتر غلطی کرنے والا وہ ہے جو غلطی کے بعد توبہ کرے۔
غلطی کرنے کے بعد انسان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ کسی دوسرے کو اِس معاملے کا ذمے دار ٹھہرا کر اس کی شکایت کرنے لگے۔اِس قسم کا رد عمل سراسر بے فائدہ ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے موقع پر خود اپنا محاسبہ (introspection) کرے، وہ اپنی کوتاہی کو د ریافت کرکے اپنی زندگی کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ اُس کا ذہن یہ ہونا چاہیے کہ جو کچھ کھویا گیا، وہ اب مجھے واپس نہیں مل سکتا۔ اِس لیے اب مجھے یہ کرنا ہے کہ میںاپنی اصلاح کرکے اپنے آپ کو مزید نقصان سے بچاؤں۔
اِس معاملے کادوسرا پہلو وہ ہے جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر غلطی کے بعد آدمی کو یہ کوشش کرنا چاہیے کہ اس کی دنیا کی غلطی اُس کے لیے آخرت کے نقصان کا سبب نہ بن جائے۔ آپ کی غلطی اگر آپ کے اندر منفی نفسیات پیداکردے تو یہی وہ چیز ہے جو آخرت کے نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔
غلطی کے بعد اپنے آپ کو اِس سے بچائیے کہ آپ دوسروں سے نفرت کرنے لگیں۔ آپ کے اندر مایوسی کے جذبات پیدا ہوجائیں، آپ معتدل انداز میں سوچنے کے قابل نہ رہیں، آپ کے اندر خدا رخی سوچ کے بجائے انسان رخی سوچ بن جائے، آپ کچھ اور کرنے کا حوصلہ کھو دیں— اِس قسم کی تمام چیزیں انسان کی آخرت کو تباہ کرنے والی ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر قیمت پر اِس قسم کی منفی احساسات (negative feelings) سے بچائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔