Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala February 2012
Al-Risala February 2012

مفروضہ دشمن کے خلاف

Urdu · 2 min read

انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ نفرت کا جذبہ ہے۔ بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے، ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ شکایت بڑھ کر نفرت بن جاتی ہے، پھرا س میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور وہ دشمنی بن جاتی ہے۔ یہ دشمن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اگر چہ ایک مفروضہ دشمن ہوتا ہے، لیکن عام مزاج کے مطابق، لوگ اس کو حقیقی دشمن سمجھ لیتے ہیں اور اُس کے خلاف وہ ساری منفی کارروائی شروع کردیتے ہیں جو کسی واقعی دشمن کے خلاف کی جاتی ہیں۔

مفروضہ دشمن کے خلاف پہلے منفی پروپیگنڈہ شروع کیا جاتاہے۔ اس کے بعد یہ کوشش ہونے لگتی ہے کہ اُس کو مادّی نقصان پہنچایا جائے۔ جب اس قسم کی مخالفانہ کوششوں میں کامیابی نظر نہیںآتی تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ مفروضہ دشمن کے خلاف متشددانہ عمل شروع کردیا جاتا ہے۔ اِس متشددانہ عمل کی آخری حد خود کش بم باری ہے، یعنی دشمن کو مارنے کے لیے خود اپنے آپ کو مار لینا۔

مفروضہ دشمن کا یہ ظاہرہ ایک عمومی ظاہرہ ہے۔ اِس کو پوری تاریخ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کا علاج صرف یہ ہے کہ آغاز ہی میں اس کو کچل کر ختم کردیا جائے۔ اِس قسم کی دشمنی کا آغاز ہمیشہ غلط فہمی سے ہوتا ہے۔ جب کسی کے بارے میں کوئی غلط فہمی پیدا ہو تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اُس غلط فہمی کو بڑھنے نہ دے۔ وہ پہلے ہی مرحلے میںاس کا خاتمہ کردے۔ غلط فہمی کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ یا تو ایسا کریں کہ اُس کو سنتے ہی اس کو بھلا دیں، اس کے بارے میں نہ سوچیں اور نہ کسی سے اس کا چرچا کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ متعلق شخص سے براہِ راست ملاقات کریں۔ اُس سے مل کر معاملے کو سمجھنے کی کوشش کریں اور متعصبانہ ذہن کے بغیر اس کا تجزیہ کریں۔ ایسا کرنے کی صورت میں یقینی طورپر غلط فہمی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ کیوں کہ غلط فہمی ہمیشہ بے بنیاد ہوتی ہے۔ جس آدمی کے اندر دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی نہ ہو، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک حیوان ہے، خواہ بظاہر وہ انسانی صورت میں دکھائی دیتا ہو۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.