اکتوبر 2011 میں کئی مشہور افراد کی موت ہوئی۔ مثلاً کینڈا کا سائنس داں رالف اسٹین مین (Ralph Steinman) ۔ 3 اکتوبر 2011 کو ان کا انتقال ہوا، جب کہ ان کی عمر 68 سال تھی۔ اُن کو میڈیسن پر نوبل پرائز ملنے والا تھا۔ نوبل پرائز کے اعلان سے صرف تین دن پہلے ان کا انتقال ہوگیا:
He died just three days before he could be told of his award.
اِسی طرح امریکا کے کمپیوٹر ایکسپرٹ اسٹیو جابس (Steve Jobs) کی وفات 6 اکتوبر 2011 کو ہوئی، جب کہ ان کی عمر 56 سال تھی۔ وہ امریکی کمپنی ایپل (Apple) کے سابق چیف ایگزیکٹیو اور اس کے شریک بانی تھے۔ انھوں نے آئی فون اور آئی پوڈ سے دنیا کو متعارف کرایا۔ ان کی موت ایپل کی طرف سے آئی فون کا نیا ماڈل 4-S جاری کئے جانے کے صرف ایک ماہ بعد ہوئی۔
اِسی طرح انڈیا کے مشہور سنگر (singer) جگ جیت سنگھ جن کو کنگ آف غزل کہاجاتا تھا، اپنے کیریر کے عین عروج کے زمانے میں 10 اکتوبر 2011 کو اچانک ان کا انتقال ہوگیا۔ بوقتِ وفات ان کی عمر 70 سال تھی۔ ایک حادثے میں اپنے بیٹے کی موت کے بعد انھوں نے یہ شعر گایا تھا جو اُن کی موت کے بعد خود اُن پر صاق آگیا :
چٹھی نہ کوئی سندیش، جانے وہ کون سا دیش، جہاں تم چلے گئے!
موت کا یہ واقعہ جو ہر دن کسی نہ کسی عورت یا مرد کے ساتھ پیش آتا ہے، وہ ہر ایک کے لیے ایک الارم ہے۔ موت یہ بتاتی ہے کہ اِس دنیا میں انسان کے لیے صرف محدود مدت تک رہنا مقدر ہے، اِس کے بعد وہ اپنے خالق کے پاس چلا جاتا ہے، تاکہ وہ اپنے ابدی انجام کا فیصلہ سنے۔ ہر انسان کو سب سے پہلے یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی زندگی اور موت کے بارے میں اپنے خالق کے تخلیقی منصوبہ کو جانے، وہ خالق کی منشا کے مطابق، اِس دنیا میں اپنی زندگی گزارے، تاکہ موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں وہ اپنے خالق کا انعام پاسکے، یعنی ابدی جنت کا انعام۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.