یکم اکتوبر 2009 کا واقعہ ہے۔ تھنّہ منڈی (جموں وکشمیر) کے علاقے میں ایک گاؤں کے اندر ایک واقعہ ہوا۔ ایک ملٹنٹ کمانڈر اپنے دو ساتھیوں کے ہم راہ رات کے وقت ایک گھر میں داخل ہوا۔ اِن لوگوں نے گھر کے مرد اور عورت کو اتنا زیادہ مارا کہ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ اُن کو شک تھا کہ یہ لوگ مخبری کا کام کرتے ہیں۔ ان کی 18 سالہ لڑکی رخسانہ اُس وقت گھر کے اندر موجود تھی۔ وہ اِس منظر کو دیکھ نہ سکی۔ اس نے فوراً ایک کلہاڑی لے کر پہلے ملٹنٹ کمانڈر کو مار کر گرادیا۔ اس کے بعد تیزی سے اس کی گن چھین کر اُسی گن سے اس کے اوپر کئی فائر کیے۔ ملٹنٹ کمانڈر اسی وقت ہلاک ہوگیا اور اس کے دونوںساتھی اس کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔
اِس واقعے میں بہت بڑا سبق ہے۔ انسانی دماغ کے اندر غیر معمولی توانائی موجود ہے، عام حالات میں وہ غیر متحرک رہتی ہے، لیکن جب کوئی شدید جھٹکا لگتا ہے تو دماغ کے اندر موجود یہ توانائی فی الفور جاگ اٹھتی ہے اور ایک لمحے کے اندر آدمی کو ہیرو بنادیتی ہے۔
مذکورہ لڑکی کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ اس کے والدین کے ساتھ جو ہولناک معاملہ پیش آیا، اس نے اس کے دماغ کے بند خانوں کو کھول دیا۔ ایک لمحے کے اندر اُس نے ناقابلِ تسخیر پلاننگ کی، چناں چہ اس نے پہلے کلہاڑی کے ذریعے کمانڈر کو مغلوب کیا اس کے بعد بجلی جیسی تیزی کے ساتھ کمانڈر کی گن کو چھینا اور فی الفور گن چلا کر اس کا خاتمہ کردیا۔
اِس موقع پر لڑکی اگر خودکشی کر لیتی تو وہ اِس بہادرانہ کارنامے کو انجام دینے سے محروم رہ جاتی۔ خود کشی کو اسلامی شریعت میں اِس لیے حرام کیا گیا ہے، تاکہ انسان کی زندگی کو بچایا جائے اور ا س کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ زندہ رہ کر مستقبل میںکوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے:
It is to save a life, so that he may play a greater role in future.
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.