19 فروری 2010 کے اخبارات میں ایک انوکھی خبر تھی۔ خبر کے مطابق، امریکا کے ایک 53 سالہ شخص جوزیف (Joseph Andrew Stack) نے امریکا کے شہر آسٹن (Texas) میں اپنا چھوٹا جہاز اڑایا اور اس کو لے جاکر فیڈرل ٹیکس آفس (federal tax office) کی سات منزلہ بلڈنگ کے دوسرے فلور سے ٹکرادیا۔ اس کے بعد جو واقعہ ہوا، اس کو بلڈنگ کے ایک شخص نے اِن الفاظ میں بیان کیا:
It was almost like an earthquake.
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ امریکی شخص نے جس جہاز کو بلڈنگ سے ٹکرا کر خود کشی کی، وہ کوئی مسافر بردار جہاز نہ تھا، بلکہ وہ اُس کا اپنا ذاتی جہاز تھا:
The plane belonged to Joseph Andrew Stack. (The Guardian,February. 18, 2010)
جس امریکی شخص نے خود کشی کی، وہ کوئی غریب آدمی نہ تھا۔ اس کے پاس اپنا ذاتی جہاز تھا، اور اِسی کی نسبت سے یقینی طورپر دوسری بہت سی چیزیں اس کو ملی ہوئی تھیں۔ اِس کے باوجود اس نے کیوں خود کشی کرلی۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ اُس کو موت سے پہلے کے مسئلے کی خبر تھی، لیکن اُس کو موت کے بعد کے مسئلے کی خبر نہ تھی۔ اگر وہ اِس حقیقت کو جانتا تو وہ ہر گز خود کشی نہ کرتا۔
کہا جاتا ہے کہ مذکورہ امریکی شخص ٹیکس کے مسائل سے پریشان تھا اور اِس بنا پر اس نے خود کشی کرلی۔ لیکن ٹیکس کا مسئلہ بہر حال ایک چھوٹا مسئلہ تھا، جب کہ خود کشی کے بعد پیش آنے والا مسئلہ یقینی طورپر اس کے لیے ایک بڑے مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر وہ اِس حقیقت کو جانتا تو وہ کبھی ایسا نہ کرتا کہ ایک چھوٹے مسئلے سے گھبرا کر بڑے مسئلے کی طرف چھلانگ لگا دے — یہی نادانی آج تمام لوگ کررہے ہیں، کوئی ایک صورت میں کررہا ہے اور کوئی دوسری صورت میں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔