تجربہ بتاتا ہے کہ ملاقات کے وقت اکثر لوگ صرف اپنی بات سناتے رہتے ہیں، وہ دوسرے کی بات سننے کے حریص نہیں ہوتے۔ یہ بہت بڑی کمزوری ہے۔ اِس کمزوری کا براہِ راست نقصان خود زیادہ بولنے والے کے حصہ میں آتا ہے، اور وہ یہ کہ اس کا ذہنی ارتقا نہیں ہوتا۔
بسیار گوئی کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری نہیں ہوتا۔ ایسے آدمی کا یقینی انجام یہ ہے کہ وہ ذہنی جمود (intellectual stagnation) کا شکار ہو کر رہ جائے۔
کسی نے درست طورپر کہا ہے کہ — جب میں بولتا ہوں تو میں سوچ نہیں رہا ہوں:
When I am speaking, I am not thinking.
ذہنی ارتقا کا تعلق تمام تر سوچ پر ہے۔ زیادہ بولنا، آدمی کے ذہن میں سوچنے کے عمل کو روک دیتا ہے، اور جس آدمی کے اندر سوچنے کا عمل رک جائے، اُس کا یہ حال ہوگا کہ وہ فکری اعتبار سے جہاں پہلے تھا، وہیں وہ بعد کے زمانے میں بھی باقی رہے گا۔
ہر آدمی کا الگ الگ میدان ہوتاہے، ہر آدمی مختلف قسم کے تجربات سے گزرتا رہتا ہے۔ اِس بنا پر ہر آدمی کے پاس کچھ ایسی بات ہوتی ہے جو دوسرے کے پاس نہیں ہوتی۔
اِس لیے جب بھی آپ کسی شخص سے ملیں تو آپ پیشگی طورپر یہ یقین کرلیجیے کہ اس کے پاس کوئی نئی بات ہوگی۔ اِس لیے سب سے پہلے چپ رہ کر اس کی بات سنئے۔ اس کے تجربات پوچھ کر اپنے علم میں اضافہ کیجئے۔
یہی ملاقات کا واحد صحیح طریقہ ہے۔ آج کل ہر آدمی سنانے کا ماہر بنا ہوا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ سننے کے عادی بنیں۔ سنانا بھی ایک عادت ہے اور سننا بھی ایک عادت۔ بہتر یہ ہے کہ آپ سننے کی عادت ڈالیں، نہ کہ صرف سنانے کے عادی بنے رہیں۔ سننے کی عادت صحت کی علامت ہے اور سنانے کی عادت بیماری کی علامت۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔