ایس سی اے آر (Scientific Committee on Antarctic Research) کی ایک سروے رپورٹ میڈیا میں شائع ہوئی ہے۔ تیرہ ملکوں کے ایک سو انٹرنیشنل سائنس دانوں کے گروپ نے یہ سروے کیا ہے۔ اِس سروے میں بتایا گیا ہے کہ برف کے ذخائر (گلیشئر) کے پگھلنے سے سمندروں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ اکیسویں صدی عیسوی کے خاتمے تک سطحِ آب کا یہ اضافہ چار فٹ سے زیادہ ہوجائے گا۔ اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے توبہت سے سرحدی علاقے زیر آب ہو جائیں گے۔ مثلاًمالدیپ، ممبئی ، مدراس اور کلکتہ، وغیرہ:
Rise in sea levels could be double of estimates — a major study by a group of 100 international scientist has said that sea levels are likely to rise by as much as 1.4 metres (more than 4 feet) by the end of this century. If these projections come true, most low-lying island nations like the Maldive would go under the sea. The New study also significantly enhances the threat to the Indian coasts — and cities like Mumbai, Chennai and Kolkata. (The Times of India, New Delhi, December 2009, p. 1)
حدیث میں قیامت کی جو پیشین گوئیاں بتائی گئی ہیں، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ زمین پر پانی کی سطح بلند ہوجائے گی۔بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سطحِ آب میں اضافے کا یہ عمل تیزی سے شروع ہوچکا ہے۔ سائنس داں یہ بھی مانتے ہیں کہ اِس عمل کو روکنا، انسان کے بس سے باہر ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ انسان توبہ اور انابت میںاضافہ کرے۔ فطرت کے اِس عمل کو روکنے کے لیے کانفرنسیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
تمام قرائن یہ بتارہے ہیں کہ موجودہ زمین پرانسان کی تاریخ اب خاتمہ کے قریب پہنچ گئی۔ چناں چہ سائنس داں انسانی نسل کی بقا کے لیے زمین جیسے ایک اور کرہ کی تلاش میں ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وسیع خلا میں زمین جیسا کوئی اور کرہ موجود نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔