امریکا میں مطالعۂ فطرت کا ایک ادارہ ہے جس کو عام طورپر انٹرنیشنل تھنک ٹینک کہاجاتا ہے۔ اس ادارے کا اصل نام حسب ذیل ہے:
Global Footprint Network
اِس ادارے نے عالمی ریسرچ کے بعد بتایا ہے کہ کرۂ ارض تیزی کے ساتھ انسان کے لیے ناقابل رہائش (inhabitable) بنتاجارہا ہے، اِس لیے کہ موجودہ زمین کے ذرائع اُس معیارِ حیات کے لیے ناکافی ہیں جو جدید تہذیب کے ظہور کے بعد انسان نے اختیار کیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر زمین کے تمام باشندے امریکا کے معیارِ حیات پر زندگی گزارنا چاہیں تو آج ہی ہم کو موجودہ زمین جیسی پانچ زمین کی ضرورت ہوگی۔ اِسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں ذرائع حیات اگر موجودہ صورتِ حال پر برقرار رہے، تب بھی موجودہ زمین کے ذرائع صرف 2030 تک کام آ سکتے ہیں:
Humans using resources at alarming rate- Humanity would need five earths to produce the resources needed, if everyone lived as profligately as Americans. We are demanding nature's services - resources and creating CO2 emissions- at a rate 44% faster than what nature can regenerate and reabsorb. That means, it takes the Earth just under 18 months to produce the ecological services, humanity needs in one year. And if humankind continues to use natural resources and produce waste at the current rate, we will require the resources of two planets to meet our demands by the early 2030s, a gluttonous level of ecological spending that may cause major ecosystem collapse (The Times of India, New Delhi, November 25, 2009, p. 24)
یہ صورت حال بے حد الارمنگ (alarming)ہے۔ مذکورہ سائنسی رپورٹ قیامت کی پیشگی اطلاع کے ہم معنیٰ ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ لوگ بیدار ہوجائیں۔ لوگ اپنے آپ کو اِس قابل بنائیں کہ وہ محفوظ طورپر قیامت کا سامنا کرسکیں۔ اِس بیداری کا تعلق مسلمانوں سے بھی اتنا ہی ہے جتنا کہ اُس کا تعلق غیر مسلموں سے ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔