اگر آپ گہرا علم نہیں رکھتے اور صرف ڈکشنری کی مدد سے قرآن کو پڑھنا چاہتے ہیں تو یقین ہے کہ آپ غلطیاں کریں گے۔ گہرے علم کے بغیر آدمی صرف ڈکشنری یا لغت کی مدد سے نہ قرآن کو سمجھ سکتا، نہ کسی اور کتاب کو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ الفاظ کے معانی اس کے سیاق (context) سے متعین ہوتے ہیں۔ اِسی طرح ہر لفظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتا ہے، اور ایک اس کا استعمالی مفہوم۔ اِسی طرح صِلہ (preposition) کے فرق سے بھی الفاظ کے معانی بدل جاتے ہیں۔ جو لوگ اِس طرح کی بصیرت نہ رکھتے ہوں، وہ کسی کتاب کو درست طور پر نہیں سمجھ سکتے۔
مثلاً انگریزی کی مثال لیجیے۔ کسی گھر میں آگ لگ جائے تو کہا جائے گا:
The house cought fire.
اِس جملے میں فائر (fire) کے معنی آگ کے ہیں۔ دوسری طرف، اگر کسی آدمی کو سروس سے برخاست کردیا جائے تو کہا جائے گا:
He was fired.
اِس جملے میں ’’فائر‘‘ کے معنی آگ کے نہیں ہیںاور نہ گولی مارنے کے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سروس ختم کردی گئی ہے۔ الفاظ کا یہ فرق صرف گہرے علم کے بعد آدمی کو حاصل ہوتا ہے۔ یہی معاملہ قرآن کا ہے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت ہے: أقیموا الدین (42: 13)اِس آیت کا لفظی ترجمہ ہے: دین کو قائم کرو۔ جو آدمی صرف لغت کو جانتا ہو اور اس کے اندر علمی بصیرت نہ ہو، وہ اِس کا مطلب یہ لے لے گا کہ دین کو غالب کرو، شرعی احکام کو نافد کرو، حالاں کہ آیت کا یہ مطلب نہیں۔ اِس آیت میں دین کی اقامت کا مطلب دین کی پیروی کرنا ہے، نہ کہ دین کو خارجی دنیا میں نافذ کرنا۔ جو آدمی گہری علمی بصیرت نہ رکھتا ہو، اُس کو چاہیے کہ وہ کسی کو اپنا رہنما بنا لے۔ وہ اُس پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی نصیحت پر عمل کرے، نہ یہ کہ وہ اپنا رہنما آپ بن جائے ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔