پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن انسان کے قدم نہیں ہٹیں گے جب تک کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے۔ ان میں سے ایک یہ ہے: وعن شبابہ فیما أبلاہ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1648)یعنی جوانی کے بارے میں کہ اس کو کس کام میں بِتایا۔شباب کا زمانہ (youth age)وہ ہوتا ہے جب کہ آدمی کی طاقت پوری طرح زندہ ہوتی ہے۔ وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ جس کام کو چاہے کر ڈالے۔شباب کا زمانہ دو کمزوریوں کے درمیان ہوتا ہے۔ پہلے بچپن اور اس کے بعد بڑھاپا۔ کسی آدمی کے لیےجوانی کا زمانہ ہی حقیقی معنوں میں عمل کا زمانہ ہوتا ہے۔ شباب کے زمانے کے پہلے بھی کمزوری ہے، اور بعد کو بھی کمزوری ہے۔ جس آدمی نے شباب کے زمانے کو ضائع کیا، اس نے گویا اپنی عمر کو ضائع کردیا۔ کسی آدمی کے لیے شباب کا زمانہ سب سے بڑی نعمت کا زمانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شباب کے زمانے کے بارے میں قیامت میں زیادہ سخت پوچھ ہوگی۔ شباب کا زمانہ کسی آدمی کی عمر کا سب سے بہتر حصہ ہوتا ہے۔ شباب کے زمانے میں آدمی جو کچھ کرسکتا ہے، اس کا کرنا آدمی کے لیے نہ شباب سے پہلے ممکن ہوتا ہے اور نہ شباب کے بعد۔ لیکن شباب کے زمانے کا ایک مائنس پہلو ہے۔ وہ یہ کہ شباب کا زمانہ آدمی کے لیے پختگی (maturity) سے پہلے کا زمانہ ہے۔ شباب کے زمانے میں آدمی انرجی کے اعتبار سے بھر پور ہوتا ہے، لیکن تجربہ اور ذہنی ارتقا کے اعتبار سے وہ ابھی اپنے غیر ارتقا یافتہ دور میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ سب سے زیادہ غلطی اپنے اس دور میں کرتے ہیں جس کو شباب کا دور کہا جاتا ہے۔ اس پہلو کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنے شباب کے زمانے میں بہت زیادہ محتاط (cautious) ہو۔ وہ جو رائے قائم کرے بہت زیادہ سوچ سمجھ کر رائے قائم کرے، اور جو کام کرے اس کا منصوبہ بہت زیادہ غور و فکر کے بعد بنائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔