انسان کی نسبت سے قرآن کا نشانہ یہ ہے کہ وہ تربیت کے ذریعہ انسان کو متوازن شخصیت (balanced personality) بنائے۔ اس مقصد کے لیے قرآن نے انسان کو ایک تربیتی اصول ان الفاظ میں دیا ہے:لِکَیْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمْ ٍ (57:23) یعنی تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا۔ اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔ خالق کے منصوبہ کے مطابق، یہی انسان کی مطلوب شخصیت ہے۔ یہ شخصیت صرف تجربات کے درمیان بنتی ہے۔مطالعہ سے آدمی کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن تجربہ آدمی کی شخصیت میں تموّج پیدا کرتا ہے۔ تجربات مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ یہ تجربات آدمی کے ذہن کو جگاتے ہیں۔ یہ تجربات آدمی کی شخصیت کے غیر متحرک گوشوں کو متحرک بناتے ہیں۔ تجربات آدمی کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف تجربہ کے ذریعہ انسان، کامل انسان بنتا ہے۔ نظری علم (theoretical knowledge) آدمی کو معلومات دے سکتی ہے لیکن کامیاب زندگی گزارنے کے لیے صرف نظری علم کافی نہیں۔ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ حقائق کی بنیاد پر سوچے اور اپنے عمل کی دانش مندانہ منصوبہ بندی (wise planning) کرسکے۔ یہ صفت کسی انسان کے اندر تجربات کے بغیر پیدا نہیں ہوتی۔ متوازن شخصیت کسی کو پیدائشی طور پر نہیں ملتی۔ متوازن شخصیت مطالعہ اور تجربہ کے ذریعہ تیار ہوتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ حقیقت کی بنیاد پر سوچے ۔ وہ حقیقت کی بنیاد پر اپنی عقلی تربیت کرے۔وہ موضوعی سوچ (objective thinking) کے ذریعے اپنے آپ کو ایک پختہ شخصیت (mature personality) بنائے۔ یہ خود تعمیری (self preparation)کا ایک کورس ہے۔ اسی خود تعمیری عمل کے کورس سے گزرکر وہ انسان بنتا ہے جواعلیٰ کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔