اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان نکاح کو ایک مقدس حیثیت حاصل ہے۔ اس کو ہر حال میں باقی رکھنا چاہیے۔ تاہم چوں کہ یہ تعلق دو غیر خونی رشتوں کے درمیان ہوتا ہے،اس لیے بعض اوقات طرفین کے درمیان اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں۔ لیکن ان اختلافات کی حیثیت حتمی نہیں ہوتی ، وہ یقینی طور پر قابل حل ہوتے ہیں۔ اس لیے طرفین کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچیں، اور برتر شرعی مصالح کو ملحوظ رکھتے ہوئے، آپس میں نباہ (adjustment) کے طریقے پر عمل کریں۔ لیکن کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ طلاق کا طریقہ عملا ًناگزیر ہوجائے۔ اس معاملے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال: أبغض الحلال إلى اللہ تعالى الطلاق (سنن ابو داوود، حدیث نمبر2178) ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ طلاق اگرچہ اسلام میں جائز ہے، لیکن اللہ کے نزدیک طلاق کی حیثیت ایک مبغوض فعل کی ہے۔ نکاح خالق کے تخلیقی منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے طرفین کو چاہیے کہ وہ جب نکاح کرلیں تو ہر حال میں اس کو نباہنے کی کوشش کریں۔ طلاق کا ارادہ صرف اس وقت کریں، جب کہ غیر معمولی حالات پیدا ہوچکے ہوں۔ قرآن میں طلاق کا طریقہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ(2:229)۔ یعنی طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو قاعدہ کے مطابق رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کردینا۔ اس حکم کا مطلب یہ ہےکہ الگ الگ دو طہروں (دو مہینوں)میں دو مرتبہ میں طلاق دی جائےاور پھر تیسرے طہر (مہینہ)میں یا تو بیوی سے رجوع کرلیا جائے یا حسن و خوبی کے ساتھ اس کو رخصت کردیا جائے ۔ ابتدائی دور میں نکاح و طلاق کا یہی طریقہ اہل اسلام میں رائج تھا۔اوراگر اتفاقی طور پر کسی شخص نے تین طلاق کا لفظ بول دیا تو اس کو غصہ پر محمول کرکے رجوع کا موقعہ دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں ایسا ہوا کہ اس قسم کے واقعات زیادہ ہونے لگے۔ لوگ اپنی بیوی کے خلاف اظہار غضب کے طور پر کہنے لگےکہ تم کو طلاق، تم کو طلاق، تم کوطلاق۔ یعنی ایک مجلس میں تین طلاق دینے کی تعداد بڑھ گئی۔ حضرت عمر نے یہ حالت دیکھ کر ایک نیا فیصلہ فرمایا۔ انھوں نے ایک مجلس کی تین طلاق کو تین طلاق قرار دے کر فریقین کے درمیان علاحدگی کرادی۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: عن ابن عباس، قال:کان الطلاق على عہد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، وأبی بکر، وسنتین من خلافة عمر، طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا فی أمر قد کانت لہم فیہ أناة، فلو أمضیناہ علیہم، فأمضاہ علیہم (صحیح مسلم ، حدیث نمبر1472)۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور دور خلافت عمر کے ابتدائی دو سال تک تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھی ۔ عمر بن خطاب نے کہا کہ لوگوں کو جس امر میں مہلت دی گئی تھی اس میں انھوں نےجلدی شروع کردی ہے پس اگر ہم تین ہی نافذ کردیں تو مناسب ہوگا ۔چناں چہ انہوں نے تین طلاق ہی واقع ہوجانے کا حکم دے دیا۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ ایسا کرنے والے مردوں کو کوڑے مارکر سخت سزا دیا کرتے تھے(إذا أتی برجل طلق امرأتہ ثلاثا أوجع ظہرہ [سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر1074])۔ حضرت عمر کا یہ فیصلہ شریعت میں تبدیلی کے ہم معنی نہ تھا۔ بلکہ اس کی حیثیت ایک انتظامی حکم (executive order) کی تھی۔ اس قسم کا انتظامی حکم عمومی حکم نہیں ہوتا، وہ صرف وقتی حالات میں استثنائی طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ اب جہاں تک طلاق کے معاملے میں شرعی حکم کا تعلق ہے، وہ ہمیشہ کے لیے وہی رہے گا، جو قرآن میں مذکور ہے۔ البتہ اگر کوئی حاکم وقتی حالات کی بنا پر دوبارہ حضرت عمر کے طریقے کو اختیار کرنا چاہے تو وہ عارضی طور پر اس کو اختیارکرسکتا ہے۔ مگر غیر حاکم کو اس معاملے میں کسی تبدیلی کی اجازت نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔