اللہ رب العالمین کے قوانین میں سے ایک قانون وہ ہے جو اپنے بندے کی مدد کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَیَنْصُرَنَّ اللَّہُ مَنْ یَنْصُرُہُ (22:40)۔یعنی بے شک اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے۔قرآن کی یہ آیت اللہ رب العالمین کے ایک اہم قانون کو بتارہی ہے۔ اس معاملے کو میں اپنے ایک ذاتی واقعہ سے بیان کروں گا۔ میری پیدا ئش یوپی کے ایک گاؤں میں ہوئی۔ میرے گھر میں بڑا آنگن تھا۔ اس میں کچھ درخت اُگے ہوئے تھے۔ میں نے چاہا کہ میں اپنے آنگن میں آم کا ایک درخت لگاؤں ۔ یہ میری نوجوانی کی عمر کا زمانہ تھا۔ میں نے اپنی ناپختہ سوچ کے تحت یہ چاہا کہ میرے گھر میں اچانک ایک بڑا درخت نظر آنے لگے۔ گھر کے باہر ہمارا ایک آم کا باغ تھا۔ اس میں ایک درخت تھا، جو چند سال میں بڑھ کر قد آدم کے برابر ہوچکا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس درخت کو میں اپنے گھر کے آنگن میں نصب کروں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ دس سال کی فطری مدت حذف کرکے ایک دن میں بڑا درخت میرے آنگن میں دکھائی دینے لگے۔ میں نے چند مزدور لگادیے، وہ باغ میں دن بھر کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ شام میں وہ درخت کو ایک چارپائی پر اٹھا کر لائے، اور میرے گھر کے آنگن میں اس کو نصب کردیا۔ میں بہت خوش تھا کہ میں نے دس سال کی فطری مدت کو ایک دن میں حاصل کرلیا ہے۔ مگر صبح کو جب میں اٹھا تو درخت کے پتے مرجھا چکے تھے۔ چند دن کے بعد درخت پوری طرح سوکھ گیا۔ اپنے آنگن کے بارے میں میرا خواب واقعہ نہ بن سکا۔ آنگن میں دوسرے درخت بدستور ہرے بھرے کھڑے تھے، لیکن میرا لگایا ہوا آم کا درخت سوکھ کر چند دن کے اندر ختم ہوگیا۔ اس واقعہ سے میں نے یہ سبق سیکھا کہ اس دنیا کے لیے فطرت کا قانون یہ ہے کہ یہاں کوئی کام دو طاقتوں کے اشتراک سے کامیاب ہو۔ یعنی انسان کا عمل اور قانون فطرت کی معاونت۔ اس دنیا میں انسان کا کوئی منصوبہ کاگ وھیل (cogwheel) کی مانند ہے۔ دندانہ دار پہیہ ہمیشہ دوپہیوں کے مشترک عمل سے چلتا ہے۔ اگر ایک پہیہ عمل نہ کرے تو دوسرے پہیے کے چلنے سے کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہوگا۔ مثلا آپ کو زرعی پیداوار حاصل کرنا ہے تو آپ کو اپنا دانہ زرخیر زمین (soil)میں ڈالنا ہوگا، اس کے بعد زمین کے تعاون سے آپ کو سر سبز فصل حاصل ہوگی۔ یہی قانون زندگی کے دوسرے معاملات کا ہے۔ مثلا آپ اسلامی مشن کو اپنا مشن بناتے ہیں، اور افراد کی ایک ٹیم اس کی پشت پر جمع کرتے ہیں تو ٹیم کے ہر فرد کو شعوری طور یہ جاننا ہوگا کہ اس کی اپنی کوشش اسی وقت باآور ہوسکتی ہے، جب کہ اس کے دوسرے ممبر پوری طرح اس کا ساتھ دیں۔ مثلا اجتماعی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے کسی بات پر شکایت ہوجاتی ہے۔ ایک شخص کو کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کو نظر انداز کیا گیا، یا اس کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ ایک شخص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کسی اور کو اس کے اوپر ترجیح دے دی گئی، وغیرہ۔ ایسے ہر موقعے پر ٹیم کے افراد کو یہ جاننا چاہیے کہ جس واقعے کو لے کر وہ منفی (negative) ہورہے ہیں، وہ در اصل اجتماعی کلچر کی بنا پر ہورہا ہے، نہ کہ ان کو بالقصد نظر انداز کرنے کی بنا پر۔ اور یہ اجتماعی کلچر دراصل فطرت کا قانون ہے جو خود خالق نے بنایا ہے۔ جس گروہ کے افراد اس سوچ کے تحت کام کریں، ان کو اللہ کی مدد حاصل ہوگی۔ انھوں نے فطرت کے قانون کو تسلیم کرتے ہوئے گویا کہ اللہ کی مدد کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ بھی ان کی مدد پر آجائے گا اور ان کی کامیابی اتنی ہی یقینی ہوجائے گی، جتنا کہ رات کے بعد سورج کا نکلنا۔ کوئی انسان یا کوئی گروہ جب ایک سچے مشن کے لیے کام کرتا ہے تو خالق کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق ،فطرت کا قانون ا س کی مدد پر آجاتا ہے۔ اسی واقعہ کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے — اگر تم اللہ کی نصرت کروگے تو اللہ بھی ضرور تمھاری نصرت کرے گا، اور تمھاری کامیابی کو یقینی بنادے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔