دوسری عالمی جنگ 1945 میں ختم ہوئی۔ اس کے بعد امریکا نے جاپان کے جزیرہ اوکی ناوا (Okinawa) کو اپنا آرمی بیس بنالیا۔ 2013 کی رپورٹ کے مطابق، اوکی ناوا میں امریکا کے آرمی اسٹاف کی تعداد حسب ذیل ہے: There are approximately 50,000 U.S. military personnel stationed in Japan, along with approximately 40,000 dependents of military personnel and another 5,500 American civilians employed there by the United States Department of Defense. جاپان نے امریکا کی فوجوں کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔ جاپان نے امریکی فوج کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے، ایجوکیشن اور انڈسٹری ، وغیرہ کے میدان میں اپنے ڈیولپمنٹ کا کام شروع کردیا۔ آج امریکا کی فوجیں بدستور جاپان میں موجود ہیں ، لیکن اس کے باوجود جاپان کو اپنی پالیسی کا یہ نتیجہ ملا کہ وہ اس وقت دنیا کی عظیم اقتصادی طاقت (economic superpower) بنا ہوا ہے۔ دوسری تقابلی مثال ریاست جموںوکشمیر کی ہے۔ انڈیا 1947 میں آزاد ہوا۔ اس کے بعد وہاں جو حالات پیدا ہوئے، اس کے تحت اُس وقت کے مہاراجہ کشمیرکی طلب پر انڈیا کی آرمی کشمیر میں داخل ہوگئی۔ ایک اندازہ کے مطابق اِس وقت کشمیر میں انڈیا کی تقریباً چھ لاکھ آرمی موجود ہے۔ کشمیریوں نے اپنے لیڈروں کی رہنمائی میں انڈیا کی آرمی کے خلاف پرتشدد تحریک شروع کردی۔ وہ چاہتے تھے کہ انڈیا کی آرمی کشمیر سے واپس جائے۔ آرمی تو واپس نہیں ہوئی، لیکن اس مدت میں کشمیر یوںکو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا: ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری ہلاک ہوگیے،کشمیر کی اقتصادی ترقی رک گئی، کشمیرکا تعلیمی نظام تباہ ہوگیا، کشمیر کے ترقیاتی امکانات غیر استعمال شدہ رہ گیے، مثلاً فروٹس(fruits) کی تجارت، سیاحت (tourism industry) کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، وغیرہ۔ مزید یہ کہ پوری کشمیری قوم منفی قوم بن گئی۔ جب کہ ترقی ہمیشہ مثبت بنیادوں پر ہوتی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔