6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کا واقعہ پیش آیا۔ اس وقت سے اب تک مختلف زبانوں میں بے شمار مضامین اس موضوع پر لکھے گیے ہیں۔ لیکن ہر مضمون قاری کو صرف منفی سبق (negative lesson) دیتا ہے۔ میرے علم کے مطابق اس موضوع پر اب تک کسی مسلمان نےکوئی ایسا مضمون نہیں لکھا جو کسی مسلمان کو مثبت سبق دے۔ دوسرے لفظوں میں اس معاملے میں غیر متعلق کا خوب چرچا ہے، لیکن متعلق کا کوئی چرچا نہیں۔ اس معاملے میں مثبت طور پر متعلق بات کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ تمام لوگ بابری مسجد کے انہدام کو آغاز (beginning) سمجھتے تھے۔ لیکن عملا یہ ہوا کہ بابری مسجد کا انہدام اس معاملے میں فل اسٹاپ (full stop) بن گیا۔ ایسا کیوں ہوا۔ اس معاملے میں وزڈم کی بات یہ ہے کہ اس سوال کا جواب معلوم کیا جائے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی زندگی میں جب بھی کوئی زیادہ بڑے قسم کا بھیانک واقعہ پیش آتا ہے تو وہ ہمیشہ انسانی ضمیر کو شدت کے ساتھ جگا دیتا ہے۔ انسان چیزوں کو نتیجہ کی روشنی میں دیکھنے لگتا ہے۔ اس بنا پر ہمیشہ ایساہوتا ہے کہ بھیانک واقعہ کے بعد ایک مانع عمل (deterrent factor) وجود میں آجاتا ہے۔ یہ مانع عمل ایک ایسا ماحول بناتا ہے، جو خاموش زبان میں یہ پیغام دیتا ہے — اس طرح کے منفی عمل پر اب فل اسٹاپ لگاؤ، اس معاملہ میں ہم مزید کاما لگانے کا تحمل نہیں کرسکتے۔ اس طرح کی مثالیں تاریخ میں بہت سی ملتی ہیں۔ اسی لیے زیادہ بھیانک واقعہ تاریخ میں دوبارہ دہرایا نہیں جاتا۔ مثلاًصلیبی جنگ (Crusades) دوبارہ نہیں ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دوبارہ کوئی عالمی جنگ نہیں ہوئی۔ایک بار ایٹم بم گرانے کے بعد دوبارہ ایٹم بم نہیں گرایا گیا، وغیرہ۔ بابری مسجد کا انہدام بھی اسی قسم کا ایک بھیانک واقعہ تھا۔ اس کے بعد انسانی ضمیر حرکت میں آگیا۔ اور بابری مسجد جیسے واقعہ کے اعادہ کو ہمیشہ کے لیے ناممکن بنادیا گیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔