ایک مشہور اردو ماہنامہ میں ایک شائع شدہ مقالہ نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان یہ تھا: عصر حاضر اور جہاد۔اس مقالہ کے شروع کی سطریں یہ ہیں: مسلمانوں کی ذلت و مظلومیت سے بھرپور تڑپادینے کی حد تک تکلیف دہ تاریخ کے پس منظر سے جہادی تنظیمیں بر آمد ہوئی ہیں۔ بڑی حد تک یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آزاد تنظیموں کے ذریعہ (ان کے نزدیک) جہاد کا یہ سلسلہ گزشتہ صدی میں افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف مزاحمت سے شروع ہوا اور اب اس کا نقطۂ عروج داعش وغیرہ کی شکل میں موجود ہے۔ (ستمبر 2016) یہ انداز فکر کسی ایک مسلم رائٹر کا نہیں ہے، بلکہ یہی انداز فکر موجودہ زمانے کے تقریباًتمام مسلم مقررین و محررین کا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان جو متشددانہ کارروائیاں کررہے ہیں، ان کو یہ تمام لوگ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مفروضہ مظالم کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مگر سوچنےکی بات یہ ہے کہ اس قسم کے شدائد رسول اور اصحاب رسول کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانے پر پیش آئے۔ ان شدائد میںسے کا ایک حوالہ قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: إِذْ جَاءُوکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّہِ الظُّنُونَا ۔ ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِیدًا (33:10-11) ۔ یعنی جب کہ وہ تم پر چڑھ آئے، تمہارے اوپر کی طرف سے اور تمہارے نیچے کی طرف سے۔ اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور تم اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور وہ سخت ہلا مارے گیے۔ اس طرح کے شدید حالات کے باوجود رسول اور اصحاب رسول نے کبھی ردعمل (reaction) کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ بلکہ یک طرفہ طور پر صبر (patience) کی روش پر قائم رہے ،اورکامل مثبت بنیادوں پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی (planning) کی۔ اس کا نتیجہ اسلام کے دورِ اول میں عظیم کامیابی کی صورت میں نکلا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اس سنت رسول کو چھوڑ دیا۔ انھوںنے مثبت منصوبہ بندی کے بجائے ردعمل کے تحت منفی سرگرمیوں کا طریقہ اختیار کر لیا۔ آج تمام دنیا کے مسلمان اسی قسم کی سرگرمیوںمیںمشغول ہیں ۔ مسلمانوں کے تقریباً تمام مقرر ین و محررین موجودہ زمانے میں یہی ایک کام کررہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مہلک بدعت ہے۔ مسلمان جب تک اس مہلک بدعت کو نہ چھوڑیں ، انھیں ہر گز کوئی کامیابی ملنے والی نہیں۔ خواہ ان کی مفروضہ قربانیوں کی مقدار کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوجائے۔ رد عمل کے مزاج کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کی سوچ، منفی سوچ (negative thinking) بن جاتی ہے۔ انسان نفرت اور شکایت میں جینے لگتا ہے۔ اس قسم کی سوچ کا ہلاکت خیز نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر فکری ارتقا (intellectual development) کا عمل رک جاتا ہے۔ اس کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ وہ درست بنیادوں پر سوچے، اور درست بنیادوں پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ مسلم امۃ اگریہ چاہتی ہے کہ اس کی موجودہ صورت حال میں تبدیلی آئے تو وہ صرف ایک تدبیر سے آسکتی ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان اپنی تمام موجودہ منفی سرگرمیوں کو یک طرفہ طور پر ختم کردیں، اور انسان کے نصح (خیرخواہی) کے جذبے کے تحت مثبت بنیادوں پر دعوت الی اللہ کاپرامن کام کریں۔اس کے سوا کوئی اور چیز مسلمانوں کے لیے فلاح اور نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اس دنیا میں کوئی بھی کامیابی صرف دانش مندانہ منصوبہ بندی (wise planning) کے ذریعہ ہوسکتی ہے۔ مفروضہ مظالم کے خلاف فریاد کا کوئی نتیجہ اس دنیا میں نکلنے والا نہیں۔ یہ دنیا فطرت کے محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ فطرت کے اس قانون کو جاننا اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا ہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ قرآن کی زبان میں مسلمانوں کے لیے یہ توبۂ جمیع (النور: 31) کا وقت ہے، یعنی یوٹرن (U-turn) لینے کا وقت۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔