قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ جنت کو اتنی گہرائی کے ساتھ دریافت کریں کہ اسی دنیا میں ان کو جنت کا تعارف حاصل ہوجائے(محمد 6:)۔ قرآن کے مطابق، جنت کی دنیا موجودہ دنیا کے متشابہ (similar) ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ موجودہ دنیا کو دیکھ کر اس کے ذریعے جنت کی پہچان حاصل کریں۔ ان کے لیے جنت اسی دنیا میں ایک دریافت کردہ جنت بن جائے۔جب کوئی شخص جنت کو اس طرح دریافت کرے گا تو فطری طور پر وہ آخری حد تک جنت کا مشتاق بن جائے گا۔اس حقیقت کو سامنے رکھ کر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ تمام دنیا کے مسلمان نفرت اور شکایت کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ یہ نفسیات اتنا زیادہ عام ہے کہ مسلمانو ںکے ہر طبقہ، تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ دونوں کے درمیان یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔ مسلمانوںکا یہ منفی ذہن (negative mind) بظاہر دوسروں کے خلاف ہے۔ مگر عملی نتیجہ کے اعتبار سے خود اپنے خلاف ہے۔ وہ مسلمانوں کے اندرسے اس مثبت نفسیات (الفجر: 27)کو ختم کرتا ہے، جو جنت کی یاد میں جینے کے لیے ضروری ہے۔ انسان کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ وہ دشمنی اور دوستی دونوں کو بیک وقت اپنے اندر جمع نہیں کرسکتا (الاحزاب 4:)۔ جو آدمی شکایت کی نفسیات میں جیتا ہو، وہ شکر کی نفسیات سے خالی ہوگا۔ جو محرومی کی نفسیات میں جیتاہو، وہ عین اسی وقت یافت کی نفسیات میں سوچنے والا نہیں بن سکتا۔ مسلمانوں کی موجودہ نفسیات ، اللہ رب العالمین کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہے۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ مسلمان موجودہ دنیا میں جنت کی جھلک(glimps) دیکھے۔ تاکہ وہ حقیقی جنت کو یاد کرے، اور اس کا طالب بن جائے۔ مگر مسلمانوں کا موجودہ مزاج ایسی شخصیت کی تخلیق میں رکاوٹ ہے۔ ایسا انسان نفرت اور جھنجھلاہٹ میں جیے گا۔ اور نفر ت و جھنجھلاہٹ والا ذہن جنت جیسی نعمت کی یاد میں جینے والا نہیں بن سکتا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔