علمی سفر کا ایک اصول قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ (17:36)۔یعنی اور ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کی تم کو خبر نہیں۔ یہ علمی سفر کا ایک جامع اصول ہے۔ اس کے مختلف پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ علمی سفر کو ہمیشہ نتیجہ خیز (result oriented) ہونا چاہیے۔ جو علمی سفر عملا نتیجہ خیز نہ ہونے والا ہو، اس میں زیادہ مشغول ہونا، اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ اور وقت کو بچانا، بجائے خود زندگی کا ایک اہم ترین اصول ہے۔یہ بھی ایک ضروری بات ہے کہ آدمی کام کو شروع کرنے کے ساتھ اس کو ترک کرنا بھی جانے۔ علمی سفر عام طور پر اس طرح شروع ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن میں ایک نکتہ (point) آتا ہے۔ وہ چاہتا ہےکہ اس کی تفصیل معلوم کرے۔ اس ذہن کے تحت آدمی اس نکتہ کی علمی تحقیق شروع کردیتا ہے۔ مگر جلد ہی اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس تحقیق کےلیے ضروری ڈیٹا (data) اس کے پاس موجود نہیں۔بظاہر یہ امید نہیں کہ وہ اس معاملہ میں کسی قابل اعتماد رائے تک پہنچ سکتا ہے۔ تو ایسی صورت میں اس کے لیے زیادہ ضروری یہ ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے وقت کو بچائے، وہ اپنے وقت کو کسی اور علمی سفر کے لیے استعمال کرے، جس کے لیے اس کے پاس ضروری مواد موجود ہو۔ مثلا آپ اس حدیث کو پڑھیں، جس میں ایک صحابی،أبو زید الأنصاری روایت کرتے ہیں : صلى بنا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم صلاة الصبح، ثم صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت الظہر، ثم نزل فصلى الظہر، ثم صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت العصر، ثم نزل فصلى العصر، فصعد المنبر فخطبنا حتى غابت الشمس، فحدثنا بما کان وما ہو کائن (صحیح مسلم، حدیث نمبر 5149۔مسند احمد، حدیث نمبر22888 )۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے، اور آپ نے خطبہ دیا، یہاں تک کہ ظہر کی نمازکا وقت آگیا، پھر آپ اترے، اور آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوگیے، پھر آپ نے خطبہ دیا یہاں تک عصر کی نماز کا وقت آگیا، آپ اترے اور آپ نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے، آپ نے خطبہ دیا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، آپ نے بیان کیا وہ سب کچھ جو ہوا ہے، اور وہ سب کچھ جو ہونے والا ہے۔ اس حدیث رسول کو پڑھ کر اگر آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں پوری انسانی تاریخ کا کلنڈر بیان کردیا۔ اس کے بعد آپ اس عالمی کلنڈر کو مرتب کرنے کی کوشش میں لگ جائیں ۔ لیکن جلد ہی آپ کو محسوس ہوگاکہ اس عالمی کلنڈر کو مرتب کرنے کے لیے آپ کے پاس ضروری مواد (material) موجود نہیں ہے، نہ احادیث میں اور نہ تاریخ کی کتابوں میں۔ ایسی صورت میں آپ کو چاہیے کہ اپنی کوشش کو موقوف کردیں۔ آپ ہرگز ایسا نہ کریں کہ ساری عمر اس عالمی کلنڈر کو مرتب کرنے کی کوشش میں لگے رہیں۔ لیکن آخر میں آپ کو معلوم ہو کہ اس قسم کا کلنڈر مرتب کرنا عملاً ممکن ہی نہ تھا۔ زندگی کے حکیمانہ اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ آدمی کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کے عملی امکان کا جائزہ لے۔ اگر اس کو نظر آئے کہ اس کا منصوبہ عملی طور پر ایک ممکن منصوبہ ہے تو اس کو چاہیے کہ اس کے لیے کوشش کرے۔ اور اگر ایسا نہ ہو ۔ یعنی آپ کو نظر آئے کہ ضروری معلومات یا ضروری وسائل کی عدم موجودگی کی بنا پر آپ کا منصوبہ واقعہ بننے والا نہیں۔ تو دانش مندی یہ ہے کہ ایسے منصوبے کو فورا چھوڑ دیا جائے۔ ایسے منصوبے کے حصول کے لیے کوشش جاری رکھنا صرف وقت کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ اور وقت کو ضائع کرنا، بلاشبہ کوئی کرنے کا کام نہیں۔ اس اصول کا تعلق آدمی کی انفرادی زندگی سے بھی ہے اور قومی زندگی سے بھی۔اس کا تعلق علمی تحقیق سے بھی ہے اور دوسری نوعیت کے کاموں سے بھی۔ کام کا یہ پہلو اگر آغاز میں غیر واضح ہو، لیکن کام شروع کرنے کے بعد جلد ہی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہ کام قابل عمل ہے یا نہیں۔ وہ صرف ایک شخصی تخیل ہے یا عملی اعتبار سے قابل حصول نشانہ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔