Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2015
Al-Risala December 2015

زد میں آنے سے بچیے

Urdu · 2 min read

اگست 2015 کی 20 تاریخ تھی۔ صبح کا وقت تھا۔ مَیں دہلی میںاپنے آفس کے سامنے کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہاں ایک شیڈ ہےجس میں چھت کا پنکھا (ceiling fan) لگا ہوا ہے۔ اس وقت ایک کبوتر اڑتا ہوا وہاں آیا۔ وہ چلتے ہوئے پنکھے کے ساتھ ٹکرا گیا۔ وہ زخمی ہوکر گرپڑا، اورپھڑپھڑانے لگا، تھوڑی دیر کے بعد معلوم ہوا کہ وہ مرچکا ہے۔

اس منظر نے میرے ذہن کو جھنجھوڑ دیا۔ میں سوچنے لگا: کیا یہ پنکھا کبوتر کا دشمن ہے۔کیا اس پنکھے نے ظالمانہ طور پر اس کبوتر کا خون کیا ہے۔ میرے ذہن نے جواب دیا کہ نہیں۔ پنکھے کو معلوم ہی نہیں کہ اس کے چلنے سے کیا حادثہ پیش آیا۔ اصل بات صرف یہ ہے کہ کبوتر چلتے ہوئے پنکھے کی زد میں آگیا۔ وہ فورا پنکھے سے ٹکرا گیا۔ وہ زخمی ہو کر گرا، اور چند منٹ کے اندر مرگیا۔ مزید سوچتے ہوئے میرے ذہن میں آیا کہ اس واقعے میں ہر ایک کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ وہ یہ کہ اپنے آپ کو دوسرے کی زد میں آنے سے بچاؤ۔ اور پھر تمھیں کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔

یہ دنیا ایک متحرک دنیا ہے۔ یہاں ہر چیز مسلسل طور پر حرکت میں ہے۔ اسی طرح ہر انسان، اور ہر انسانی گروہ اپنی اپنی دوڑ لگا رہا ہے۔ یہ دوڑ بھاگ کسی کے خلاف نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص نادانی کرے، اور جانتے بوجھتے یا بغیر جانے ہوئےلوگوں کے دوڑ کی زد میں آجائے تو وہ اپنے آپ کو ہلاک کر لے گا۔ اس لیے نہیں کہ دوسرا اس کو جان بوجھ کر ہلاک کرنا چاہتا تھا۔ بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی نادانی سے اس کی دوڑ کی زد میں آگیا۔ یہی اس دنیا کا امتحان ہے۔ یہاں کوئی کسی کا دشمن نہیں۔ یہاں کوئی ظالم اور سازشی نہیں۔ آپ اگر دوسروں کے ظلم کو دریافت کرکے اس کے خلاف شکایت کریں تو اس کا ہرگز کوئی فائدہ نہیں۔ کیوں کہ جو کچھ ہورہا ہے، وہ فطرت کے قانون کے مطابق ہو رہا ہے۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ فطرت کے قانون کو دریافت کریں، اور اپنی زندگی کا منصوبہ اس طرح بنائیں کہ آپ دوسروں کی زد میں آنے سے بچ جائیں۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.